برطانیہ نے سرکاری اداروں کی ڈیوائسز پر ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ نے جمعرات کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سرکاری اداروں کے دفاترمیں استعمال ہونے والی ڈیوائسزپر چینی ایپلی کیشن "ٹک ٹاک" پر فوری پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسٹیٹ سکریٹری اولیور ڈاؤڈن جن کے پورٹ فولیو میں سائبر سکیورٹی شامل ہے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ "ہم فوری طور پر سرکاری اداروں پر TikTok کے استعمال پر پابندی لگا دیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ ایک احتیاطی اقدام ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حکومت کے اندر TikTok کا پہلے سے ہی محدود استعمال ہے، لیکن یہ ایک اچھا سائبر کلین اپ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سرکاری آلات سے وابستہ مخصوص خطرات کے پیش نظر جن میں حساس معلومات ہوسکتی ہیں، بعض ایپلی کیشنز کے استعمال کو محدود کرنا دانشمندانہ اور مناسب ہے، خاص طور پر وہ جو کہ بڑی مقدار میں ڈیٹا تک رسائی اور ذخیرہ کرتی ہیں۔

نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول اور مختصرویڈیوز شیئر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایپ کے ناقدین چینی حکام پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتی ہے، تاہم ٹک ٹاک اس کی تردید کرتا ہے۔

ڈاؤڈن نے کہا کہ یہ نقطہ نظر "سرکاری ایجنسیوں سے متعلق مخصوص خطرات پر مبنی امریکا، کینیڈا اور یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی اسی طرح کی پابندیوں کی پیروی کرتا ہے۔

بدھ کے روزچین نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ TikTok پر "بلا اشتعال حملے" بند کرے۔ واشنگٹن نے چینی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس سے کہا کہ وہ ایپ میں اپنے حصص چھوڑ دے یا قومی سلامتی کی بنیادوں پر پابندی کا سامنا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں