فوج، انٹیلی جنس، ملٹری پولیس اور ویگنر: شام میں روسی طاقت کے 4 مراکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے اپنے حالیہ دورہ ماسکو کے دوران ایک ملاقات میں شام میں مزید روسی اڈوں اور افواج کا خیرمقدم کیا۔ اس خیر مقدم کے ساتھ شام میں روس کے مراکز کی تفصیلات میں ذہن میں گھوم جاتی ہیں۔
روس نے 2015 میں شام میں اپنی فوجی مداخلت کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت شام میں روس کے بہت سے اڈے موجود ہیں۔ روسی طاقت کے ان عناصر میں لڑاکا فوج، انٹیلی جنس، ملٹری پولیس اور اب حال میں ہی سامنے آنے والا ملٹری گروپ ویگنر گروپ کے اہلکار شامل ہیں۔


شام میں سرگرم روسی افواج کو 4 فوجی اڈوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم اڈا ’’لاذقیہ ‘‘کے دیہی علاقوں میں ’’حمیمیم‘‘ ایئر بیس میں واقع ہے۔ اس اڈے کا رقبہ لگ بھگ 1.6 ملین مربع مٹر ہے۔ اس کے چوکوں کا رقبہ تقریبا 82 ہزار مربع میٹر ہے۔ اس کے رن وے کی لمبائی 2800 میٹر ہے۔ یہ ہوائی اڈہ انٹونوف طیاروں کو وصول کرنے کی صلاحیت سے لیس ہے۔ یہ ٹینک اور توپیں لے جانے والے سب سے بڑے روسی طیارے ہیں۔ یہ سخوئی 35 ایس بھی وصول کرسکتا ہے۔ سخوئی کا شمار سب سے اہم روسی طیاروں میں ہوتا ہے۔


حمیمیم ایئر بیس میں جدید ترین آلات کے ساتھ ایک تکنیکی راڈار ، پہلے سے تیار رہائش، ایک ایئر کنٹرول سٹیشن اور اس کے اور اطراف کے علاقوں کے دفاع کے لیے روسی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی موجو د ہیں۔
طرطوس میں ایک روسی بحری اڈہ ہے جو بیرکوں، ذخیرہ کرنے والی عمارتوں، تیرتے گوداموں اور ایک دیکھ بھال کرنے والے جہاز سے لیس ہے۔ یہ اڈہ بحیرہ روم میں روس کی تعیناتی کا واحد نقطہ ہے۔ یہ آبنائے باسفورس اور سوئز کینال جیسی اہم سمندری گزرگاہوں کے لیے ایک سٹریٹجک نقطہ ہے اور نیٹو افواج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔
تیسرا روسی اڈا حماۃ میں واقع ہے۔روس نے جغرافیائی محل وقوع کے طور پر اس شہر کی اہمیت کو بھانپ لیا ہے۔ خاص طور پر حماۃ چونکہ شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے قریب ہونے کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ اس لیے روس نے یہاں اپنا اڈا قائم کرکے اپنے پیر جما لیے ہیں۔


روس نے صوبے میں موجود ایرانی افواج سے بھی کہا کہ روسی فوجی شہر کے جنوب میں واقع 47 ویں بریگیڈ میں موجود ہیں ، اس لیے وہ اس اس جگہ کو خالی کر دیں۔ تاکہ شمالی علاقے میں ایک فوجی اڈہ بنانے سے پہلے اسے اپنی افواج کے لیے ایک بڑے کیمپ میں تبدیل کیا جا سکے۔ چوتھے اڈے کی بات کریں تو اسے روس نے ’’الحسکہ ‘‘ گورنری کے ’’القامشلی‘‘ ایئرپورٹ پر قائم کیا تھا۔ یہ لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور "پینٹسر" فضائی دفاعی نظام سے لیس ہے۔


روس اور شام قریبی اتحاد

واضح رہے روس 2011 میں جنگ کے ابتدائی مہینوں سے شام کی سرزمین پر بڑی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ روس کو شامی صدر بشار الاسد حکومت کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے ۔ اس نے اپوزیشن کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے کرکے بشار الاسد کی عسکری حمایت کی تھی۔ اس فوجی اور سیاسی حمایت نے اسے جنگ کا رخ بشار الاسد حکومت کے حق میں موڑنے میں بھی مدد کی تھی ۔ روس کی اس فراخدلانہ حمایت کے بدلہ میں بشار الاسد نے شام میں مزید روسی اڈوں اور افواج کا خیرمقدم کیا ہے۔ بہ بات بھی قابل غور ہے کہ روسی فوج کی شام میں موجودگی کو دنیا میں طاقت کے توازن کی ضرورت بھی خیال کیا گیا ہے۔

Advertisement
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں