کینیڈا کا خواب چکنا چور ،جعلی دستاویزات پر 700 انڈین طلبہ ملک بدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کینیڈین حکام نے 700 ہندوستانی طلبہ کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جعلی دستاویزات پر ملک میں پڑھنے آئے تھے۔ اور اب یہاں مستقل قیام کے لیے کوشش کررہے تھے۔

مقامی بھارتی میڈیا نےخبر دی کہ کینیڈا کی سرحدی سیکیورٹی ایجنسی نے طلباء کو ملک بدری کے نوٹس جاری کیے، جن میں سے زیادہ تر پنجاب میں قائم ایک مائیگریشن خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے ذریعے کینیڈا پہنچے تھے۔

جعلی دستاویزات اس وقت سامنے آئیں جب طلبہ نے کینیڈا میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دینا شروع کی۔

امیگریشن حکام نے کارروائی کے دوران کالج داخلے کے خطوط کی صداقت کا جائزہ لیا تو وہ جعلی پائے گئے۔

جن طلبہ کو ملک بدری کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں، بعض نے کام کے اجازت نامے کے لیے درخواست دی اور کچھ پہلے ہی اجازت نامہ حاصل کر کےمستقل قیام کے لیے درکار کام کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں۔

یہ کیسے ہوا؟

جن تمام 700 طلباء کو ملک بدری کا نوٹس جاری کیا گیا ہے انہوں نے کالج کی بنیادی تعلیم کے بعد پنجاب کے شہر جالندھر میں ایجوکیشن مائیگریشن سروسز فرم کے ذریعے تعلیمی ویزا کے لیے درخواست دی تھی۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق برجیش مشرا کی سرپرستی میں کام کرنے والی اس کنسلٹنسی سروس نے ہر طالب علم سے اخراجات کی مد میں تقریباً 20,000 ڈالر (روپے 1,600,000) وصول کیے گئے، جن میں ہمبر کالج میں داخلہ کے اخراجات بھی شامل تھے۔

اس لاگت میں پرواز کا کرایہ شامل نہیں تھا اور سیکیورٹی ڈپازٹس اس کے علاوہ تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کینیڈا کا اسٹڈی ویزا 2018 اور 2019 کے درمیان اب شناخت شدہ جعلی کالج داخلہ خط کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا نے کچھ طلبہ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرا نے کینیڈا میں اترنے کے بعد طلباء کو اچانک مطلع کیا کہ ان کا داخلہ ہمبر سے ایک غیر معروف ادارے میں ہو گیا ہے۔

مشرا نے طلبہ کو ہمبر کی قیمتی ٹیوشن واپس کردی، جس سے طلبہ کا مشرا پر بھروسہ قائم رہا اور انہوں نےایک متبادل کالج میں دو سالہ ڈپلومہ کورس کے لیے داخلہ لیا۔

فراڈ

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرا نے، جس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کی، ویزا درخواستوں سمیت کسی بھی دستاویز پر دستخط نہیں کیے تھے۔

چونکہ دستاویزات میں کسی ایجنسی کی زیر قیادت درخواست کی موجودگی کا ذکر نہیں تھا اس لیے طالب علموں کو جعلی دستاویز بنانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طلبا کو سماعت کا موقع دینے کے بعد نوٹس جاری کیے گئے۔ ملک بدری کے علاوہ طلباء پر کوئی مالی جرمانہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

طالب علم مبینہ طور پر ملک بدری کے دعوے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں، مگر کارروائی میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں اور اس میں مہنگے وکیلوں کی خدمات حاصل کرنا شامل ہے۔

دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرا کی فرم پر پولیس نے 10 سال پہلے چھاپہ مارا تھا۔ اسے 2013 میں طالب علموں کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے جعلی دستاویزات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس وقت وہ ایزی وے امیگریشن کنسلٹنسی کے نام سے ایک اور امیگریشن کمپنی چلا رہے تھے۔

مبینہ طور پر مشرا کو کچھ مہینوں میں فرم میں نہیں دیکھا گیا ہے، اور کمپنی سے منسلک ویب سائٹ اب فعال نہیں ہے۔

تاہم یہ سوال بدستور موجود ہے کہ ابتدائی طور پر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اسٹڈی ویزا کی درخواست کے وقت جعلی دستاویزات کو کیوں نہیں لگایا گیا تھا؟

ہندوستانیوں میں باہر جانے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

ہندوستان کے بہت سے طلبہ تعلیم یا ملازمت کے ذریعہ کینیڈا منتقل ہونے کا انتخاب کر رہے ہیں۔

شمالی امریکہ کے اس ملک میں منتقلی کو آسٹریلیا کی طرح نسبتاً سست مائیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

متوسط طبقے کے ہندوستانی کئی دہائیوں سے دوسرے ممالک میں بہتر امکانات تلاش کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اب بگڑتے ہوئے معاشی حالات غریب دیہی علاقوں کے خاندانوں کو بھی بیرون ملک زندگی بنانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے دی کی گئی معلومات کے مطابق، 2021 میں، کل 163,370 ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کی۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے کے لئے سب سے زیادہ درخواستیں امریکہ سے 78,284، اس کے بعد 23,533 درخواستیں آسٹریلیا اور 21,597 درخواستیں کینیڈا سے دی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں