سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ خطے کے لیے اہم ہے: ایران

خطے کے مفاد کے لیے اختلافات کو مذاکرات اور باہمی احترام سے حل کرنیکا وقت آگیا: ناصر کنعانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا ہے کہ کہ تہران اور ریاض کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا معاہدہ پورے خطے کے مفاد میں ہے اور استحکام کے حصول کے لیے محرک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (آئی آر این اے) کی رپورٹ کے مطابق کنعانی نے 18 مارچ ہفتہ کو اپنے بیان میں مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ علاقائی تعاون کو یکجا کرنے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ناصر کنعانی نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خطے کے ملکوں کے مفاد کے لیے موجودہ اختلافات اور مسائل کو بات چیت، باہمی احترام اور اچھی ہمسائیگی کے ذریعے حل کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کا مطلب دونوں فریقوں کے درمیان تمام اختلافات کو حل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دونوں کی اس مشترکہ خواہش کا اظہار ہے کہ اختلافات کو رابطوں اور گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ، جس کی سرپرستی اور ثالثی چین نے کی تھی، عراق اور سلطنت عمان میں گزشتہ دو سالوں کے دوران بات چیت کے کئی ادوار کے بعد عمل میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے 10 مارچ 2023 کو اعلان کیا تھا کہ وہ سفارتی تعلقات بحال کرنے اور زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے اندر دونوں ممالک کے سفارتخانے کھولنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا عرب دنیا اور عالمی برادری میں وسیع پیمانے میں خیر مقدم کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں