انڈیا اگلے دو سالوں میں ہوائی اڈوں پر 12 بلین ڈالر خرچ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انڈیا اگلے دو سالوں میں ہوائی اڈوں پر تقریباً 980 بلین روپے ( 12 بلین ڈالر) خرچ کرے گا، جس میں موجودہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ سفر کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سینکڑوں نئے طیاروں کی شمولیت شامل ہے۔

انڈیا ، دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی ایوی ایشن مارکیٹ کا مقصد 2025 تک ہوائی اڈوں کی تعداد کو موجودہ 148 سے بڑھا کر 220 کرنا ہے، جس کے لیے پرائیویٹ بلڈرز تقریباً 9 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

اس میں گرین فیلڈ پراجیکٹس، نئے ٹرمینلز اور موجودہ سہولیات بشمول نوآبادیاتی دور سے بچ جانے والے سابق فوجی ایئر فیلڈزکی تزئین و آرائش شامل ہیں۔

اگرچہ 1.42 بلین کی آبادی والے پورے ملک کے پاس صرف 700 طیاروں کا بیڑا ہے مگر بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں موجودہ ہوائی اڈے ، پارکنگ اور لینڈنگ سلاٹ ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

یہ اقدام ہندوستان کی عالمی سطح پر ترقی کے اظہار اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور 3.2 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں چین سے آگے بڑھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

ہندوستان پہلے ہی ہوا بازی میں اپنی شناخت بنا رہا ہے، ایئر انڈیا لمیٹڈ نے گزشتہ ماہ تجارتی ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے بڑے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ بوئنگ اور ایئربس ایس ای برسوں سے ہندوستان سے پرزہ جات حاصل کر رہے ہیں۔

شہری ہوابازی کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے مطابق، ہندوستان ہوائی نقل و حمل میں ایک پاور ہاؤس بننا چاہتا ہے، وہ پیر کو تین روزہ انڈیا ایوی ایشن سمٹ کا آغاز کر رہے تھے۔

معروف کمپنی بوئنگ نے پیش گوئی کی ہے کہ ہندوستان کی مسافروں کی آمدورفت تقریباً 7 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھے گی، جبکہ چین میں 2022 سے 2041 تک یہ شرح 4.9 فیصد تھی۔

بین الاقوامی کونسل آف کلین کے محقق "جیانت مکھوپادھیا" نے کہا کہ "ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے میں ترقی سے بہت زیادہ اقتصادی بہتری آئے گی اور نئے ہوائی اڈے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے جس کی وجہ ہندوستان میں نقل وحمل کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور سست ٹرینیں ہیں۔"

ملک کی سب سے بڑی کمپنی ٹاٹا گروپ کی ملکیتی ایئر انڈیا نے 470 طیاروں کا آرڈر دیا ، جبکہ ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈی گو متوقع طور پر بڑی تعداد میں طیارے خریدنے جا رہی ہے۔

نئی حصولیابی کے ساتھ، ہندوستان چین جیسی بڑی ایوی ایشن مارکیٹس تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہوابازی پر تحقیق کرنے والے ادارے "سیریم" کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا اب تک 1,400 سے زیادہ طیارے آرڈر دے چکا ہے۔ یہ چین کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے، جو اس دوران 2035 تک اپنے ہوائی اڈوں کو تقریباً دوگنا کرکے 450 تک پہنچانا چاہتا ہے۔

چین کے پاس اس وقت ہندوستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ طیارے ہیں۔

اس توسیعی منصوبے میں اڈانی گروپ کا ممبئی میں 2,866 ایکڑ کا ہوائی اڈہ بھی شامل ہے جو 2036 تک 90 ملین مسافروں کی سفری ضرورت پوری کرے گا۔

دارالحکومت نئی دہلی میں 70 ملین مسافروں کی حتمی گنجائش کے ساتھ ایک نئی ائیرپورٹ بھی قائم کیا جائے گا جسے زیورخ ایئرپورٹ انٹرنیشنل اے جی تیار کر رہا ہے۔ دیگر گرین فیلڈ ہوائی اڈے کرناٹک، گجرات اور آندھرا پردیش ریاستوں میں بنائے جائیں گے۔

آلودگی کے اخراجات

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے پیمانے پر انفراسٹکچر کے منصوبے بھارت کی فضائی آلودگی میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔ ڈلبرگ ایڈوائزرز کی ایک رپورٹ کے یہ مطابق یہ سالانہ جی ڈی پی میں 95 بلین ڈالر تک کا اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ 2070 تک نیٹ زیرو تک پہنچنے کے ہدف سے واضح طور پر متصادم ہوگا۔

ہندوستان 2024 تک 90 سے زیادہ کاربن نیوٹرل ہوائی اڈوں کا حامل ہونا چاہتا ہے، یہ ایک مشکل چیلنج ہے کہ اس وقت صرف دو ایسے ہوائی اڈے موجود ہیں، ایک نئی دہلی میں اور روسرا جنوبی بندرگاہی شہر کوچی میں۔

ممبئی اور دہلی کے قریب جاری منصوبوں کو پہلے ہی ماحولیاتی خدشات پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

لیکن ترقی پر مودی کی توجہ کے پیش نظر وہ 2025 تک 5 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کا ہدف بنا رہے ہیں اور ہوا بازی ان کی ترجیحی فہرست میں بلند رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں