عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تھے: پال بریمر کا پھر اعتراف

حملہ نہ کیا جاتا تو جوہری ایران اور عراق کا سامنا ہوتا، عراقی سیاستدانوں پر سختی کے احکامات غلط تھے: سابق امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

19 مارچ 2003 کو عراق پر امریکی حملے کو دو دہائیاں گزرنے کے بعد بغداد میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور پولش افواج کی مشترکہ فوج کے داخلے کے ساتھ ہی سفیر پال بریمر کا نام پھر سے سامنے آیا ہے۔

سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے ذاتی ایلچی کے طور پر عراق کے امور کی نگرانی کرتے ہوئے اسی سال 12 مئی کو عراقی دارالحکومت پہنچنے والے تجربہ کار سیاست دان پال بریمر عراقیوں کے لیے صرف سفیر نہیں تھے بلکہ ایک مخصوص عرصہ کے لیے اس ملک کے حکمران تھے۔

جنگ کا فیصلہ درست تھا

بریمر اس وقت امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے عراق آئے تھے۔ان کا کام معیشت کا پہیہ موڑنے اور ملک میں حکمرانی کے لیے ایک نئی راہ کی تشکیل تک محدود تھا لیکن وہ اس سے بھی آگے نکل گئے۔

امریکی فوجی عراق میں صدام حسین کی فوٹو اٹھائے جارہے ہیں 14 اپریل 2003 .۔ ایف پی
امریکی فوجی عراق میں صدام حسین کی فوٹو اٹھائے جارہے ہیں 14 اپریل 2003 .۔ ایف پی

تمام اعلیٰ سطح کے امریکی بیانات کے باوجود جن میں بار بار حملے کی غلطیوں پر زور دیا گیا تھا، بریمر کی اپنی رائے تھی۔ وہ آج بھی جنگ کے فیصلے کی کو درست قرار دے رہے ہیں۔ ۔ الشرق الاوسط اخبار کے مطابق ان کا خیال تھا کہ بش کا صدام حسین کا تختہ الٹنے کا اقدام درست تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ عراق آج 20 سال بعد بہتر حالت میں ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امریکیوں کی طرح عراقیوں کو بھی اس جنگ کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے تاہم اس جنگ کے فوائد بہت زیادہ تھے۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار

جہاں تک بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا تعلق ہے بریمر نے اعتراف کیا ہے کہ انٹیلی جنس نے اس وقت اطلاع دی تھی کہ صدام سنجیدگی سے اس قسم کے ہتھیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم یہ واضح تھا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔

سابق عراقی صدر صدام حسین ۔ فائل فوٹو
سابق عراقی صدر صدام حسین ۔ فائل فوٹو

اس کے باوجود بریمر نے واضح کیا کہ صرف امریکی خفیہ ایجنسیاں ہی اس معاملے پر پراعتماد نہیں تھیں بلکہ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور روس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی حملے کے عمل پر متفق تھیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش اس فیصلے کے اثرات کو سمجھتے تھے لیکن بش کا مقصد معاشی اور سیاسی طور پر ملک کی بحالی میں عراقیوں کی مدد کرنا تھا۔

ایران اور عراق ایٹمی طاقت ہوتے

پال بریمر نے کہا کہ آج خطہ بہتر حالت میں ہے کیونکہ اگر صدام اقتدار میں رہتا تو دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس عراق کا سامنا کرنا پڑتا اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا۔

صدام حسین کا مجسمہ گرایا جارہا۔ رائٹرز
صدام حسین کا مجسمہ گرایا جارہا۔ رائٹرز

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اپنے پروگرام کی رفتار کو سست کر دیا اور روکا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو ایرانیوں کی طرف سے ہر روز کمزور کیا جا رہا ہے۔

دو غلط احکامات

بریمر نے عراق پہنچنے پر احکامات اور حکمناموں کی ایک لمبی فہرست جاری کی تھی جن میں سے دو فرامین کے وسیع اثرات تھے۔ پہلا بعث پارٹی کو ختم کرنا اور دوسرا عراقی فوج کو تحلیل کرنے کا فرمان تھا۔ ان دونوں فرامین نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔

اس معاملے پر پال بریمر نے اب 20 سال بعد بھی کہا ہے کہ یہ فیصلے درست تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلے عراق کے بارے میں ایک امریکی تحقیق پر مبنی تھے جس میں 2002 میں کہا گیا تھا کہ صدام کے بعد عراق میں بعث پارٹی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی کیونکہ بعث پارٹی نے خود کو صدام کے لیے ایک ایسا سیاسی ٹول بنا دیا تھا جس کو صدام لوگوں کو کنٹرول کرنے اور دہشت زدہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس لیے صدام کے بعد بعث پارٹی کی جگہ نہیں تھی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ یہاں ان سے غلطی ہوئی جب انہوں نے عراقی سیاستدانوں پر سختیاں کرنے کا حکم جاری کیا پھر یہ حکم عراق میں مختلف فرقوں کے درمیان لڑائی کا ایک آلہ بن گیا۔

عراقی فوج کی تشکیل

بال پریمر نے یہ بھی کہا کہ عراقی فوج کو ختم کرنا بھی ایک غلطی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے نشاندہی کی کہ صدام کے بعد کے عراق میں اس فوج کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی کیونکہ یہ عراقیوں پر زبردستی کنٹرول کے لیے ایک بنیادی ہتھیار بن چکی تھی۔ حملے کی تباہی کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے حملہ کے بعد سیاسی اور اقتصادی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بال پریمر نے زور دیا کہ عراق آج بہت بہتر حالت میں ہے۔ عراق صرف ایک خرابی چیز کا شکار ہے اور وہ کرپشن ہے۔

صدام کی گرفتاری

سابق عراقی صدر کو پکڑنے کے عمل کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فوج کا مشن تھا۔ اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ابی زید نے 13 دسمبر 2003 کی صبح تقریبا دو بجے مجھے دفتر آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا "میرے خیال میں ہمیں صدام مل گیا!" ابی زید نے کہا کہ وہ بالکل صدام جیسا نظر آتا ہے ۔ اس کی ٹانگوں میں سے ایک پر داغ یا تل یا کسی قسم کا نشان ہے۔ بال پریمر نے بتایا کہ مجھے اس وقت پتہ چلا کہ وہ صدام ہی تھا۔ یہ ایک اچھی خبر تھی۔

پال بریمر نے اپنے مشن کے بہت سے راز پوشیدہ رکھے ہیں جو عراق میں 9 مئی 2003 کو شروع ہوا اور 28 جون 2004 کو ختم ہوا۔

خیال رہے کہ صدام حسین کی رخصتی کے لیے امریکہ کی ڈیڈ لائن 20 مارچ 2003 کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکیوں نے اسے ’’ آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کا نام دیا تھا۔ عراق میں تقریبا 150000 امریکی اور 40000 برطانوی فوجی تعینات کئے گئے تھے۔ 9 اپریل کو بغداد پر قبضہ کرلیا گیا تھا۔ عراقی سرزمین پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی سے اس وقت جنگ کا جواز پیش کیا گیا تھا لیکن آخر کار وہ ہتھیار نہیں ملے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں