امریکی انٹیلی جنس نےبھارت کی چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں کیسے بروقت مدد کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کی انٹیلی جنس نے ہمالیائی خطے میں بھارت کی چین کی جانب سے متنازع سرحدی علاقے پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنانے میں مدد کی ہے۔

اس بات کا انکشاف ’یوایس نیوز‘ نے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔اس نے اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ حقیقی اوربروقت انٹیلی جنس کے تبادلے نے چین کی فوجی دراندازی اور پہلے سے کشیدہ صورت حال میں ممکنہ اضافے کو روکنے میں مدد کی تھی۔

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ امریکا نے بڑی سرعت سے بھارتی فوج کو زیادہ تفصیلی معلومات فراہم کی تھیں۔ان معلومات میں تفصیلی سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل تھیں۔

بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 13دسمبر کو پارلیمنٹ کو بتایاتھا کہ مسلح تصادم کا واقعہ 9 دسمبر کو ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان پیش آیا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دوبدو لڑائی کے نتیجے میں دونوں اطراف کے کچھ فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان متنازع سرحد پرجون 2020 میں ہونے والی جھڑپ کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اوریہ 40 سال سے زیادہ عرصے میں بدترین جھڑپ تھی۔اس میں کم سے کم 20 ہندوستانی اور کم از کم چار چینی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔یہ لڑائی لداخ کے ہمالیائی خطے کے ارد گرد مرکوز تھی۔دونوں ملکوں کے درمیان 3،488 کلومیٹر(2،170 میل) طویل سرحد واقع ہے جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل او سی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اروناچل پردیش،جہاں گذشتہ جمعہ کو تشدد ہوا تھا، اسی علاقے میں 1962 میں بھارت اور چین کے درمیان محدود پیمانے پر جنگ ہوئی تھی۔یانگزی کا علاقہ سرحد کے ساتھ تین مقامات میں سے ایک ہے جس پر دونوں ممالک دعوے دارہیں۔

یہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں فریقوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔دونوں اطراف کے فوجی کمانڈروں کے مابین بات چیت کے قریباً16 دورہوچکے ہیں۔دونوں فریقوں نے کچھ مقامات سے اپنے فوجیوں کو واپس بھیج دیا ہے جہاں 2020ء کی جھڑپیں ہوئی تھیں۔

امریکااوربھارت چین کومشترکہ دشمن سمجھتے ہیں۔ سنہ 2020 میں دونوں اتحادیوں نے جیو اسپیشل کوآپریشن (بی ای سی اے) کے لیے بنیادی تبادلے اور تعاون کے معاہدے پر دست خط کیے تھے۔یہ ان کے درمیان چوتھا معاہدہ تھا۔اس کے تحت فوجی، لاجسٹکس اور سکیورٹی کے شعبوں میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کوروزانہ کی نیوز کانفرنس میں یوایس نیوزکی اس رپورٹ کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔یہ اطلاع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدربائیڈن نے اپنے چار پیش رو صدورکی طرح بھارت کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کو ترجیح دی ہے اور وہ اُبھرتے ہوئے چین کا توڑ کرنے کے لیے بھارت کو ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں جبکہ بھارت پر روس کااثرورسوخ بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں