برطانیہ: پاکستانی نمازی کو آگ لگانے کے شبہ میں ایک سوڈانی شہری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں پیر کے روز پاکستانی محمد ریاض کو مسجد سے گھر آتے ہوئے راستے میں ایک شخص نے آگ لگا دی تھی۔ ریاض ایجبسٹن کی ایک مسجد سے نکلے اور واپس اپنے قریبی گھر کی طرف جا رے تھے کہ ان جیسے ہی ایک راہگیر نے انہیں فٹ پاتھ پر روک کر پوچھا کہ آیا وہ وہ عربی بولتےہے۔

70 سالہ ریاض نے جواب دیا کہ وہ صرف گجراتی اور اردو بولتے ہیں۔ تاہم سائل نے غیر متوقع طورپر کوئی نامعلوم چیز بزرگ شخص پر چھڑک کر اسے آگ لگا دی اور رات کے اندھیرے میں انہیں چیختا اور درد سے کراہتا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ پاکستانی ریاض کے بیٹے نے چیخیں سنیں تو مدد کے لیے لوگوں کو پکارا اور خاندان کے افراد کے ساتھ پاس مل کر معاملہ سنبھالا، پولیس کو بلایا اور ایمبولینس بلائی اور ریاض کو ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھا کہ جھلسنے میں اس کے بازو، سینہ، اور چہرہ جل گیا ہے۔ سوجن کی وجہ سے آنکھیں کھولنا مشکل تھا۔ بدھ کی شام کو ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ کے مطابق ریاض کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔ ریاض طویل عرصہ سے برطانوی شہر برمنگھم میں مقیم ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق منگل کو پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے ۔ یہ مشتبہ حملہ آور سوڈانی شہری ہے۔ نمازیوں نے اس کا اس وقت اس محاصرہ کر لیا جب وہ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے پہنچا جہاں وہ فروری کے آخر سے اکثر آتا تھا۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کی بدھ کو شائع کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستانی سے بات کرتا ہے اور پھر اس کی جیکٹ کو آگ لگا دیتا ہے۔

جلائے گئے پاکستانی ریاض سے متعلق یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ایک ریٹائرڈ سکول پرنسپل ہے۔ علاقے کے مکینوں نے انھیں وہاں معاشرے کے ستونوں میں سے ایک کے طور پر بیان کیا ہے۔ ریاض ایک فارم پر کام کرتے تھے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے مرغیاں پالنے کے لیے انہوں نے فارم بنایا تھا۔ وہ ایک باعزت اور مکمل طور پر پرسکون رہنے والے شخص تھے۔ ریاض سےکسی سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وہ ایک اعتدال پسند مذہبی شخصیت تھے اور روزانہ 5 مرتبہ مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔ پولیس نے اس حملے کو ایک دوسرے حملے سے بھی جوڑا ہے۔ ایسا ہی واقعہ لندن کے ایلنگ رہائشی محلے میں 27 فروری کو پیش آیا تھا اور ایک 82 سالہ بوڑھے کو آگ لگا دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں