بھارت:عدالت نے راہول گاندھی کو ہتکِ عزت کا مجرم قرار دے دیا،دو سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں ایک عدالت نے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو 2019 میں کی گئی ایک تقریر پر ہتکِ عزت کا قصوروار قرار دیا ہے اورانھیں دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔اس تقریر میں مودی نام کا مضحکہ اڑایا تھا اور کہا تھا کہ یہ تمام چوروں کا عرفی نام ہے۔

راہول گاندھی ریاست گجرات کے شہر سورت کی عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت موجود تھے۔یہ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے۔عدالت نے راہول گاندھی کو ضمانت دے دی ہے اور ان کی سزا کو تیس دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما نے 2019 کے عام انتخابات کے دوران میں ایک تقریر کے بعد راہول گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں انھوں نے مودی نام کا حوالہ دیا تھا اور پوچھا تھا کہ یہ عرفی نام تمام چوروں کا لقب کیسے ہے۔

عدالت نے راہول گاندھی کے بیان کو توہین آمیز پایا ہے۔ عدالت نے انھیں تعزیرات ہند کی دفعات499 اور500 کے تحت قصوروار پایا۔ درخواست گزار پورنیش مودی کے وکیل کیتن ریشم والا نے کہا کہ مدعاعلیہ کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

راہول گاندھی نے عدالت میں کہا کہ انھوں نے یہ تبصرہ بدعنوانی کو اجاگرکرنے کے لیے کیا تھا نہ کہ کسی کمیونٹی کے خلاف ان کا تبصرہ تھا۔

راہول گاندھی ملک کے اہم اپوزیشن رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ 2024 میں وزیر اعظم مودی کے مدمقابل ہوں گے۔نریندرمودی ان انتخابات میں تیسری مدت کے لیے امیدوار ہوں گے۔

راہول گاندھی کی کانگریس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 10 فی صد سے بھی کم نشستیں ہیں اور وہ بھارت میں منعقدہ گذشتہ دو لگاتارعام انتخابات میں بی جے پی سے بری طرح ہار چکی ہے۔کانگریس پارٹی آخری مرتبہ 2019 میں منعقدہ عام انتخابات میں ہاری تھی۔

مودی دوسرے سیاست دانوں کے مقابلے میں ہنوزکافی فرق سے بھارت کے سب سے مقبول سیاست دان ہیں اور توقع ہے کہ وہ 2024 میں اگلے عام انتخابات میں تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرلیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں