روس ایران میں سب سے بڑاغیرملکی سرمایہ کار بن گیا: ایرانی وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس ایران میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بن گیا ہے۔یہ بات ایرانی وزیرخزانہ احسان خاندوزی نے فنانشیل ٹائمزکو ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے رواں ہفتے ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران میں ایران میں 2.76 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وزیر کے مطابق یہ سرمایہ کاری صنعت، کان کنی اور نقل و حمل جیسے مختلف شعبوں میں کی گئی ہے۔

وزیرنے کہا کہ ’’ہم روس کے ساتھ اپنے تعلقات کوتزویراتی طور پر بیان کرتے ہیں اور ہم بہت سے پہلوؤں، خاص طور پر اقتصادی شعبے میں مل کر کام کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے اس بات پرزوردیا کہ چین اورروس ایران کے دواہم اقتصادی شراکت دار ہیں اورتہران "تزویراتی معاہدوں" پرعمل درآمد کے ذریعے ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

جب ان سے یوکرین اوراس کے مغربی اتحادیوں کے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایران نے یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے روس کو مسلح ڈرون مہیا کیے ہیں، خاندوزی نے کہا کہ یہ تنازع ایران کے لیے "بدقسمتی" ہے۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کوروس کواسلحہ کی فروخت سے آمدنی حاصل ہوئی ہے توانھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

منگل کے روز ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بھی ایسے الزامات کو مسترد کردیا تھا اورامریکا پر یوکرین میں تنازع شروع کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا الزام عایدکیا۔

ایران کے مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنرمحسن کریمی نے جنوری میں کہا تھا کہ ایران اورروس نے تجارت اور مالی لین دین کو فروغ دینے میں مدد کے لیے اپنے بین بینک مواصلات اور منتقلی کے نظام کو منسلک کیا ہے۔

سنہ 2018 میں جب سے امریکا نے دوبارہ پابندیاں عاید کی ہیں،ایران کابیلجیئم میں قائم سوئفٹ فنانشل میسجنگ سروس سے رابطہ منقطع کردیا گیا ہے۔گذشتہ سال ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد سے کچھ روسی بینکوں کو بھی اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فنانشیل ٹائمزنے ایران کی وزارتِ خزانہ کے اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں نے ایران کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت کومحدود کردیا ہے، روس کے بعد افغانستان دوسراسب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے، جس نے 256 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی ہے۔

چین نے ایران میں صرف13 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھی،اس کے بعد عراق اور متحدہ عرب امارات ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف مغربی کاروباری ادارے ہی نہیں ہیں جو ایران میں کاروبار کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں