قبطی بچے کو جائیداد کی خاطر مسلمان بنانے کا معاملہ، جامعہ الازھر نے کیا فیصلہ دیا؟

احناف کے ہاں چرچ سے ملا بچہ گود لینے والوں کے مذہب پر ہوتا، شنودہ بھی عیسائی ہے: فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر میں ایک بچہ وراثت کی خاطر مسلمان ہوگیا، اس بچے ’’شنودہ‘‘ کے معاملے پر ملک بھر میں بحث جاری تھی۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ پیدا ہوگیا۔ علما کرام کی آرا میں اختلاف پیدا ہوگیا لیکن جامعہ الازھر نے مداخلت کرکے اب اس مسئلہ کو حل کردیا ہے۔

جامعہ الازہر انٹرنیشنل سنٹر فار فتویٰ نے کہا کہ اس نے چرچ کے اندر پائے جانے والے بچے کے مذہب کے بارے میں مختلف علما سے بہت سے استفسارات کیے تھے۔ علما کی آرا اس حوالے سے مختلف تھیں۔ جامعہ الازھرنے اس بچے کے متعلق جو رائے اپنائی ہے وہ وہی ہے جس کی طرف حنفی حضرات کا ایک گروہ بھی گیا ہے۔

جامعہ الازھر نے مزید واضح کیا کہ اگر کلیسا میں کوئی ’’لقیط‘‘ یعنی پڑا ہوا بچہ ملا اور جس نے اسے اٹھایا وہ غیر مسلم ہے تو بچہ بھی اسی کے مذہب پر ہے۔ یعنی وہ بھی غیر مسلم شمار ہوگا۔ احناف نے اپنی کتابوں میں یہی حکم دیا ہے۔ احناف کی عبارت یہ ہے۔ ’’ وان وُجِد فی قریۃ من قری اھل الذمۃ او فی بیعہ اور کنیسۃ کان ذمیا‘‘ ۔

شنودہ نامی بچے کی کہانی ایک مرتبہ پھر مصری میڈیا پر اس وقت چھا گئی تھی جب انتظامی عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچے کے مذہب کا تعین نہیں ہے اور گود لینے والے بچے کے خاندان کے وکیل کی طرف سے اسے گود لینے کے لیے دائر مقدمہ کو مسترد کر دیا تھا۔ بچہ قانون کے مطابق یتیم خانہ میں چلا گیا اور اس کا نام بدل کر یوسف رکھ دیا گیا اور وہ مسلمان کہلایا گیا تھا۔

یہ کہانی سنہ 2018 میں شروع ہوئی تھی جب قبطی خاتون امل فکری نے بچہ پیدا کرنے اور زچگی سے انکار کردیا اور بتایا کہ یہ بچہ اس نے قاہرہ کے مشرق میں الزاویہ الحمرا کے علاقے میں ایک مصری چرچ کے اندر سے پایا تھا۔ اس نے اپنے شوہر کے ساتھ ملکر بچے کو گود لینے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے اس بچے کو شنودہ فاروق فوزی بولس کہا تھا۔

خاندان اس بچے کے ساتھ خوش رہ رہا تھا کہ قبطی شوہر کے رشتہ داروں میں سے ایک کو خوف لاحق ہوا کہ خاندان کی وراثت اس بچے کو منتقل ہو جائے گی اورباقی افراد وراثت سےمحروم ہوجائیں گے۔ اس رشہ دار نے مداخلت کی اور مطالبہ کیا کہ اسے یتیم خانے میں چھوڑا جائے۔

مصر میں چرچ سے لیا گیا بچہ شنودہ
مصر میں چرچ سے لیا گیا بچہ شنودہ

شنودہ کو کیئر ہوم میں رکھنے کے بعد پبلک پراسیکیوشن نے بتایا کہ بچے کا نام بدل کر یوسف رکھ دیا گیا تھا اور وہ قانون کے مطابق مسلمان ہو گیا ہے۔ یاد رہے قانون کسی مذہب پر نہ ہونے والے بچے کو فطری طور پر مسلمان گردانتا ہے۔ جبکہ پبلک پراسیکیوشن نے اعلان کیا کہ بچہ مذہب کی تعین کے بغیر یتیم خانے میں رکھا گیا تھا اور پھر اس کا نام بدل کر یوسف عبداللہ محمد رکھ دیا گیا۔

شنودہ کو گود لینے والی والدہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے اپنے گزشتہ بیانات میں کہا تھا کہ اس نے اور اس کے شوہر نے بچے کی پرورش کی اور اسے ہر طرح کی دیکھ بھال اور توجہ فراہم کی جس کی اسے ضرورت تھی لیکن وراثت کے تنازعہ کے باعث بچہ ان سے چھین لیا گیا اور ان کی زندگیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ والدہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اور اس کا شوہر اپنی تمام جائیداد جس کو چاہے دینے کے لیے تیار ہیں اس شرط پر کہ بچے کو ان کے پاس چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے مصری حکام سے مداخلت کی اپیل کی تھی کہ بچے کو دوبارہ ان سے ملوا دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں