پوتین کی گرفتاری پر دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں: آئی سی سی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے بدھ کے روز یوکرین میں روسی آپریشن کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر روسی صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر اس کے پراسیکیوٹرز اور ججوں کے خلاف اعلان کردہ "دھمکیوں" اور کارروائیوں کو مسترد کر دیا

عدالت کے ممبران ریاستوں کی اسمبلی کی صدر ہے اور ان کا قانون ساز ادارہ تشکیل دیتی ہے نے ایک بیان میں کہا کہ "وہ بین الاقوامی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے جن کا مقصد عوامی بین الاقوامی قانون کے ممنوعہ اعمال کے لیے احتساب کو یقینی بنانا ہے۔"

عدالت نے اشارہ کیا کہ "بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف دھمکیاں مل رہی ہیں، جبکہ اس نے اپنے پراسیکیوٹرز اور ججوں کے خلاف اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایسوسی ایشن "بین الاقوامی فوجداری عدالت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کےعزم کا اعادہ کرتی ہے۔

میدویدو کی دھمکی

ڈچ میڈیا کے مطابق سابق روسی صدر دمتری میدویدو نے پوتین کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے جواب میں ہیگ کو ہائپرسونک میزائل سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

ماسکو نے پیر کے روز کہا کہ اس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان اور متعدد ججوں کے خلاف اس "غیر قانونی" فیصلے پر مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد یوکرین کے تنازعے پر پوتین کو گرفتار کرنا تھا۔

گرفتاری کا حکم

جمعہ کے روز عدالت نے روسی صدر ولادیمیر پوتین اور روسی کمشنر برائے حقوق اطفال ماریا لووا-بلووا کے لیے یوکرینی بچوں کی "غیر قانونی ملک بدری" کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے اور انہیں جنگی مجرم قرار دیا۔

کریم خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ان بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ تاہم، ماسکو نے ان الزامات کو " من گھڑت" قراردیا ہے۔

کیف کے مطابق 24 فروری 2022 کو شروع ہونے والے روسی حملے کے بعد سے 16,000 سے زیادہ یوکرینی بچوں کو روس بھیج دیا گیا ہے، جن میں سے بہت سے اداروں میں اور رضاعی خاندانوں کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں