ڈرون حملہ کا جواب: امریکہ نے شام میں کارروائیاں شروع کردیں، 8 جنگجو ہلاک

جمعرات کو کنٹریکٹر کی ہلاکت اور 5 امریکیوں کیے زخمی ہونے کے بعد جواب دیا: پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پینٹاگون نے کہا کہ امریکی فوج نے جمعرات کی رات شام ایک ٹھیکیدار کے ہلاکت اور پانچ امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد شام میں درست فضائی حملے کیے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اعلان کیا ہے کہ شام کے مشرقی علاقے دیر الزور پر امریکی حملوں میں ملیشیا کے 8 جنگجو مارے گئے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق امریکی حملوں میں دیر الزور شہر میں ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چھ جنگجو مارے گئے۔ دیگر مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مزید 2 جنگجو مارے گئے۔ یہ دو حملے المیادین کے اطراف اور مشرقی شام میں البوکمال کے دیہی علاقوں میں کیے گئے۔ آبزرویٹری کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف پینٹاگون نے کہا ہے کہ یہ حملے اس حملے کے جواب میں کیے گئے جس نے جمعرات کو تقریباً دوپہر ایک بج کر 38 منٹ پر شمال مشرقی شام میں الحسکہ کے قریب امریکی زیر قیادت اتحاد کے اڈے کو نشانہ بنایا۔

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ایک بیان میں کہا کہ جواب میں صدر جو بائیڈن نے مشرقی شام میں ملیشیا سے وابستہ اداروں کے زیر استعمال تنصیبات کے خلاف درست فضائی حملوں کی اجازت دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان درست حملوں کا مقصد امریکی اہلکاروں کی حفاظت اور دفاع کرنا ہے۔

آسٹن نے مزید کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے اور ہم ہمیشہ اس وقت اور جگہ پر جواب دیں گے جو ہم منتخب کریں گے۔ کوئی بھی گروہ ہماری افواج کو نشانہ بنا کر معافی حاصل نہیں کر سکتا۔

واضح رہے سیکڑوں امریکی فوجی شام میں دولتِ اسلامیہ کی باقیات کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے حصے کے طور پر تعینات ہیں اور وہ اکثر مسلح گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ شام میں امریکی فوجی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی حمایت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں