افغانستان وطالبان

افغان طالبان بیرون ملک مزید سفارتی مشنوں پرکنٹرول کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

طالبان حکومت بیرون ملک مزیدافغان سفارت خانوں کا کنٹرول سنبھالنے کے خواہاں ہے۔

طالبان نےاگست 2021ء میں افغانستان پرقبضے کے بعدابتدائی طورپرزیادہ اعتدال پسند حکمرانی کا وعدہ کیا تھا،لیکن اس کے بجائے انھوں نے بالخصوص خواتین کی بنیادی آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پابندیاں عاید کی ہیں اور دیگراقدامات کیے ہیں۔

اقوام متحدہ اورغیرملکی حکومتوں نے خواتین کی تعلیم اورروزگارپرپابندیوں کی شدید مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برادری طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں محتاط ہے،جبکہ بعض ممالک افغانستان میں فعال سفارتی مشن برقراررکھے ہوئے ہیں۔ان میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور چین شامل ہیں۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ویڈیومیں کہا کہ امارت اسلامیہ نے14ممالک میں اپنے سفارت کار بھیجے ہیں اور بیرون ملک دیگر سفارتی مشنوں کا چارج سنبھالنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سابق حکومت کے مقرر کردہ سفارت کار وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق انتظامیہ نے ایران، ترکیہ، پاکستان، روس، چین، قزاقستان اور دیگرعرب اور افریقی ممالک میں اپنے سفارت کار بھیجے ہیں۔انھوں نے مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

فروری میں حکام نے تہران میں افغانستان کے سفارت خانے کا کنٹرول طالبان حکومت کے سفیروں کے سپردکردیا تھا۔اس سے قبل وہاں امریکاکی حمایت یافتہ سابق افغان حکومت کے سفیر کام کرتے تھے۔

حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی فوری طور پر یہ تفصیل فراہم کرنے سے معذوری ظاہرکی ہےکہ اگست 2021 سے اب تک کتنے افغان سفارتی مشن بیرون ملک فعال ہیں یا انتظامیہ نے کتنے سفارتی مشنوں کاچارج سنبھالا ہے۔

البتہ انھوں نے کہا کہ بیرون ملک افغانستان کے بہت سے سفارت خانے ہیں۔امارت اسلامیہ تمام ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اوراچھے روابط کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ہمیں امیدہے کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ باضابطہ تعلقات شروع ہوتے ہی تمام ممالک میں سفارت خانے کھول دیے جائیں گے۔

جنوری میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین خاتون امینہ محمدنے کہا تھا کہ طالبان بین الاقوامی سطح پر خود کو تسلیم کرانے کے خواہاں ہیں اوراقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست چاہتے ہیں جو اس وقت اشرف غنی کی زیرقیادت سابق حکومت کے پاس ہے۔

طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مڈل اور ہائی اسکول اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کے داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے اورغیرسرکاری تنظیموں سمیت ملازمت کے زیادہ ترشعبوں میں خواتین کے کام پرپابندی عاید کردی ہے۔ خواتین کوعوامی مقامات پر سرتاپاکپڑے پہننے کا بھی حکم دیاگیا ہے اورانھیں پارکوں اور جم میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

طالبان نے افغانستان بھر میں ثانوی تعلیم پرپابندی کے نفاذ کے 18 ماہ بعد گذشتہ ہفتے نئے تعلیمی سال کے لیے اسکول دوبارہ کھول دیے تھے لیکن نوعمر لڑکیوں کے بغیرہی یہ اسکول کھلے ہیں۔

مارچ کے اوائل میں موسم سرما کی تعطیل کے بعد جامعات بھی داخل طالبات کے بغیر دوبارہ کھل گئی تھیں اوراین جی اوز کے کام پر پابندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ کچھ امدادی ایجنسیوں نے استثنا کے ذریعے جزوی طورپراپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی ہیں۔

ناروے کی پناہ گزین کونسل کے سیکریٹری جنرل جان ایگیلینڈ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں خواتین امدادی کارکنوں پر 'ناقابل برداشت پابندی' کوتین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ہم نے مقامی سطح پر کچھ پیش رفت کی ہے، جس سے خواتین کوکام پر واپس آنے کی اجازت مل گئی ہے، لیکن اب بھی قومی اجازت نامے کا انتظار کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں