ایران پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی اہمیت کا قائل ہو گیا: علی الامین

اپنی گزشتہ دہائیوں کی پالیسی سے ایران اندرونی اور بیرونی طور پر متاثر ہوا: شیعہ عالم دین کی ’’ العربیہ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شیعہ مذہبی اتھارٹی اور عمائدین کی کونسل کے رکن شیعہ عالم دین علی الامین نے العربیہ چینل کے پروگرام "براہ راست سوال" میں شرکت کی۔ علی الامین نے خطے میں سعودی ایران معاہدے کے اثرات اور معاہدے کے نفاذ کے بعد خطے میں ایران کے فوجی ہتھیاروں کے مستقبل کے بارے میں بات کی۔

’’ العربیہ‘‘ کے فلیگ شپ پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی نظام میں داخل ہونے کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی اہمیت کا قائل ہو گیا ہے۔ گذشتہ دہائیوں میں ایران نے جو پالیسی اختیار کی اس نے اسے بیرونی اور اندرونی طور پر متاثر کیا تھا۔

سعودی ۔ ایران معاہدے کے بعد علی الامین کو توقع ہے کہ ایران کے حامی مسلح گروہوں کو ان ممالک کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا جہاں وہ واقع ہیں۔ انہوں نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ معاہدے کے بعد حزب اللہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گی۔ ایرانی قیادت کی بات مانے گی۔ اور اگر ایران نے ایسا کرنے کو کہا تو وہ اپنے ہتھیار پھینک دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں