شام میں ایران سے منسلک اہداف پرحملوں کا فوری جواب دیا جائے گا؛تہران کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سکیورٹی ادارے کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روزکہا ہے کہ شام میں ایران سے منسلک فوجی اڈوں پرحالیہ حملوں کا فوری جواب دیا جائے گا۔

شام میں امریکااورایران کی اتحادی ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں میں 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔یہ دونوں متحارب ملکوں کی اتحادی فوجوں کی ایک دوسرے کے ساتھ گذشتہ برسوں میں خونریزجھڑپیں ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی نورنیوزنے اعلیٰ سکیورٹی ادارے کے ترجمان کیوان خسروی کے حوالے سے کہاہے کہ شام میں دہشت گردی اورداعش کے عناصرسے نمٹنے کے لیے شامی حکومت کی درخواست پربنائے گئے ٹھکانوں پرحملے کے کسی بھی بہانے کا فوری جواب دیا جائے گا۔

ایران کاکہنا ہے کہ اس کی افواج اوراتحادی جنگجو دمشق کی درخواست پرشام میں موجودہیں اور وہ امریکی افواج کو قابض سمجھتا ہے۔

امرکا نے شام کے مشرقی علاقے میں ایران نواز تنصیبات پرفضائی حملے کیے ہیں۔اس نے جمعرات کے روزایک ڈرون حملے کے جواب میں فضائی بمباری کی تھی۔ڈرون حملے میں ایک امریکی ٹھیکےدار ہلاک اور پانچ امریکی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایرانی ساختہ تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں تین شامی فوجی، حکومت نواز ملیشیا کے 11 شامی جنگجو اور اسد حکومت سے وابستہ پانچ غیرشامی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے غیر ملکیوں کی قومیت کی وضاحت نہیں کی۔ابتدائی تبادلے کے کے بعد ترکی بہ ترکی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ حکام کے مطابق ایک اورامریکی فوجی زخمی ہوا ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے شام کے مشرقی علاقے میں مختلف مقامات پر راکٹ داغے ہیں۔

امریکی صدرجوبائیڈن نے جمعہ کے روز ایران کو خبردارکیا تھا کہ امریکیوں کے تحفظ کے لیے 'طاقت کے ساتھ کارروائی' کی جائے گی۔

ایران شام میں 12 سال سے جاری تنازع کے دوران میں صدربشارالاسد کا بڑا حامی اور پشتی بان رہا ہے۔

ایران کے آلہ کارمختلف ملیشیا گروپ ،جن میں لبنانی گروپ حزب اللہ اور تہران نوازعراقی گروہ شامل ہیں،شام کے مشرقی، جنوبی اور شمالی علاقوں اور دارالحکومت دمشق کے مضافات میں اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے اس اثرورسوخ کے پیش نظراسرائیل باقاعدگی سے شام میں اس کے اہداف پرفضائی حملے کرتا رہتا ہے لیکن امریکاشاذونادر ہی ایسے عناصر کے خلاف فضائی حملے کرتا ہے۔ امریکاایران کے ڈرون پروگرام کے بارے میں بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ایران یہ ڈرون روس کو مہیا کرریاہے اوریہ اس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں کام آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں