مجھے مودی، اڈانی تعلقات پر تنقید کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے: راہول گاندھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہندوستان کے حزب اختلاف کے رہنما راہول گاندھی نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت الفاظ سے حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اڈانی گروپ کے ساتھ مودی کے تعلقات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

راہول گاندھی نے کہا کہ جمعہ کو پارلیمنٹ سے ان کے نااہلی کا مقصد انہیں قانون ساز اسمبلی میں گوتم اڈانی کے اڈانی گروپ کی ملکیتی شیل کمپنیوں میں 3 بلین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کے بارے میں بولنے سے روکنا تھا۔

ان میں سے کچھ دفاعی کمپنیاں ڈرون اور میزائل کی تیاری اور آرڈیننس کی تیاری میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع سوال کیوں نہیں پوچھ رہی؟

گذشتہ روز ایک عدالت نے راہول گاندھی کو ہتک عزت کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا اور انہیں انتخابی تقریر میں مودی کا مذاق اڑانے پر دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد انہیں پارلیمنٹ سے نااہل کر دیا گیا تھا۔

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے پڑپوتے راہول کے خلاف کارروائیوں کی مودی کے مخالفین کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ان کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے کو کچلنے کی کوشش کرنے والی حکومت کی طرف سے یہ جمہوریت اور آزادی اظہار کے خلاف تازہ ترین حملے ہیں۔

راہول گاندھی کی نااہلی سے اپوزیشن پارٹی کو ایک بڑا دھچکا لگا جو اگلے سال ہونے والے قومی انتخابات کی تیاری کر رہے تھے۔

جمعرات کو مغربی ہندوستان کے شہر سورت کی ایک عدالت نے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی لیکن وہ فوری طور پر جیل نہیں جائیں گے کیونکہ عدالت نے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے 30 دن کے لیے مہلت دی ہے۔

عدالت نے گاندھی کو 2019 کی ایک تقریر کے لیے مجرم ٹھہرایا جس میں انہوں نے پوچھا تھا، ’’تمام چوروں کے نام کا حصہ مودی کیوں ہے؟‘‘ گاندھی نے اس کے بعد تقریر میں تین معروف اور غیر متعلقہ مودیوں کا حوالہ دیا: ایک مفرور ہندوستانی ڈائمنڈ ٹائیکون، ایک کرکٹ ایگزیکٹو جس پر انڈین پریمیئر لیگ ٹورنامنٹ میں پابندی عائد کی گئی تھی اور وزیر اعظم مودی۔

ناہلی کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے پھر ایک بار مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اڈانی گروپ کو ہندوستان، سری لنکا اور آسٹریلیا میں ٹھیکے حاصل کرنے میں مدد کی۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک چینی شہری اڈانی کی شیل کمپنیوں میں سرمایہ کاری میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی یہ سوال کیوں نہیں پوچھ رہا کہ یہ چینی شہری کون ہے؟ ’’کوئی نہیں جانتا کہ یہ رقم کہاں سے آئی ہے۔ اڈانی اس رقم کا جواز پیدا نہیں کر سکا۔

گاندھی نے امریکی مالیاتی ریسرچ فرم ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس میں اڈانی گروپ پر اسٹاک کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور اربوں ڈالر کی دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اڈانی گروپ نے کسی غلط کام سے انکار کیا ہے اور مودی حکومت نے پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ قبول نہیں کیا ہے۔

گاندھی کی نیوز کانفرنس کے فوراً بعد، مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اعلیٰ رہنما روی شنکر پرساد نے گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارلیمنٹ سے نااہلی کا اڈانی گروپ کے تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بلومبرگ کے بلینیئر انڈیکس کے مطابق، 2014 میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے، اڈانی کی مجموعی مالیت تقریباً 2,000 فیصد بڑھ کر 125 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اور وہ ستمبر میں ایمازون کے جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا اچانک دنیا کے دوسرے امیر ترین آدمی بن گئے تھے۔

مودی دور حکومت میں اڈانی گروپ نے بندرگاہوں، شاہراہوں اور پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے حکومت کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں