وینکوورمیں سفارتی مشن کے باہرسکھوں کااحتجاج؛ بھارت نے کینیڈین ہائی کمشنرکوطلب کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی حکام نے نئی دہلی میں متعیّن کینیڈا کے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کیا ہے اور ان سے سکھ مظاہرین کے کینیڈا میں بھارت کے ایک سفارتی مشن کے باہر احتجاج پروضاحت طلب کی ہے۔

کینیڈا کے میڈیا کی اطلاعات کے مطابق وینکوور میں واقع بھارتی قونصل خانے کے باہر سیکڑوں افراد لاپتا سکھ علاحدگی پسند رہ نما امرت پال سنگھ کی بازیابی کے حق میں مظاہرے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اس پر ہفتہ کے روز کینیڈا کے ہائی کمشنر کو طلب کیا اورانھیں ’’اس ہفتے کینیڈا میں اپنے سفارتی مشن اور قونصل خانوں کے باہرعلاحدگی پسند اورانتہاپسند عناصر کی کارروائیوں کے بارے میں اپنی گہری تشویش سے آگاہ کیا ہے‘‘۔

وزارت برائے امورِخارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک بیان میں کہا:’’توقع ہے کہ کینیڈین حکومت ہمارے سفارت کاروں اورسفارتی احاطے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ وہ اپنے معمول کے سفارتی فرائض انجام دے سکیں‘‘۔

انتہاپسند سکھ امرت پال سنگھ کی تلاش ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔بھارتی حکومت نے شمالی ریاست پنجاب کے کچھ حصوں میں موبائل انٹرنیٹ منقطع اور چار سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔اب تک قریباً 100 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔

امرت پال سنگھ نے حالیہ مہینوں میں سکھوں کے لیے الگ وطن خالصتان کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر نے بھارتی حکومت کی درخواست پرکریک ڈاؤن پر تنقید کرنے والے متعدد معروف سکھ کینیڈین باشندوں کے اکاؤنٹس بلاک کردیے ہیں۔ان میں رکن پارلیمنٹ جگمیت سنگھ بھی شامل ہیں۔

ریاست مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد صحافیوں اور سکھ برادری کے اہم افراد کے ٹویٹر اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے ہیں اور میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا گیا ہے۔

بھارت نے گذشتہ ہفتے برطانیہ کے نئی دہلی میں متعیّن اعلیٰ سفارت کار کو بھی طلب کیا تھا اور ان سے سنگھ کے حامیوں کے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن میں احتجاج ،داخل ہونے اور وہاں توڑپھوڑ کرنے کے واقعے کی وضاحت طلب کی تھی۔

سان فرانسیسکو میں بھی مظاہرین نے بھارت کے قونصل خانے کے دروازے اورکھڑکیاں توڑ دی تھیں۔اس واقعہ پر بھارت نے امریکی محکمہ خارجہ کے علاوہ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے سے بھی ’’سخت احتجاج‘‘ کیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی پنجاب میں قریباً 58 فی صد سکھ اور 39 فی صد ہندو آباد ہیں۔ 1980 اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں خالصتان کے لیے پرتشدد علاحدگی پسند تحریک نے اس ریاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت اکثرغیر ملکی حکومتوں سے ہندوستانی تارکینِ وطن میں سکھ انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں شکایت کرتا رہتا ہے۔ان کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ وہ بھاری رقوم کے ذریعے سکھ شورش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں