یورپی یونین کی بیلاروس کو روسی جوہری ہتھیارنصب کرنے پرپابندیوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اتوارکے روزکہا ہےکہ اگر بیلاروس اپنے ہاں روس کے جوہری ہتھیاروں کو نصب کرتا ہے تو اس کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ’’بیلاروس کی جانب سے روسی جوہری ہتھیاروں کی میزبانی کامطلب غیرذمہ درانہ کشیدگی میں اضافہ اور یورپی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگا۔ بیلاروس اب بھی اسے روک سکتا ہے، یہ اس کا انتخاب ہے۔یورپی یونین مزیدپابندیوں کےساتھ جواب دینے کوتیار ہے‘‘۔

روسی صدرولادی میرپوتین نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کرے گا۔انھوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاروں کی تنصیب امریکاکے اقدامات سے ملتی جلتی ہے۔اس نے خود بیلجیئم، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈزاور ترکیہ میں اپنے اڈوں میں اس طرح کے ہتھیار ذخیرہ کررکھے ہیں۔

اس اعلان کے بعد سے جوہری جنگ کے خدشات میں اضافے کے پیش نظرماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی روسی حملے میں ممکنہ طورپرچھوٹے حجم کے جنگی ہتھیار شامل ہوں گے،جنھیں 'تزویراتی' طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں ’ٹیکٹیکل‘ کہا جاتا ہے۔

یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے روس پراپنی ذمہ داریوں سے انحراف اورجوہری تخفیف اسلحہ کے ڈھانچے اور عمومی طور پربین الاقوامی سلامتی کے نظام کو کمزورکرنے کا الزام عایدکیا ہے۔

بیان میں بین الاقوامی برادری پرزوردیا گیا ہے کہ وہ ولادی میرپوتین کی حکومت کو اس کی تازہ جوہری اشتعال انگیزی پرواضح پیغام دے اور اس کو آگاہ کردیا جائے کہ اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں