الانصاری کے مالکان نے 2023 میں دبئی کے پہلے آئی پی او سے 21 کروڑڈالر جمع کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترسیلاتِ زراور منی ایکس چینج فرم الانصاری فنانشیل سروسز کے مالکان نے حصص کی قیمتوں کے تعیّن کے بعد ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) سے 77کروڑ30 لاکھ درہم (21 کروڑ ڈالر) جمع کرلیے ہیں۔

الانصاری ہولڈنگ ایل ایل سی نے اپنے 75 کروڑ حصص 1.03 درہم فی حصص کے حساب سے فروخت کیے ہیں اور اس کی مجموعی مالیت 2 ارب 10 کروڑڈالررہی ہے۔اس کے حصص کاکاروبار 6 اپریل سے شروع ہوگا۔

دبئی میں رواں سال کا پہلا آئی پی او 12.7 ارب درہم سے زیادہ کی طلب کا حامل تھا جس میں بنیادی سرمایہ کار نیشنل بانڈزکارپوریشن کی جانب سے 20 کروڑ درہم کا وعدہ بھی شامل تھا۔

الانصاری کو 16 مارچ کو کتابیں کھلنے کے ایک گھنٹے کے اندرہی تمام حصص کے آرڈر مل گئے تھے جبکہ درمیانے درجے کے امریکی قرض دہندگان کے کساد اور کریڈٹ سوئس گروپ کے اے جی پر خدشات کی وجہ سے مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔

الانصاری متحدہ عرب امارات میں خاندانی ملکیت والے پہلے کاروباری اداروں میں سے ایک ہے جو عوامی سطح پراپنے حصص فروخت کے لیے پیش کررہا ہے۔گذشتہ سال نج کاری مہم کے دوران میں شہر میں لسٹنگ سے مجموعی طور پر 8.5 ارب ڈالر جمع ہوئے تھے جس کا مقصد تجارتی حجم میں اضافہ اور دبئی کی ابوظبی اور الریاض کے ساتھ آئی پی او کی سرگرمیوں میں مطابقت پیدا کرنا تھا۔ دبئی میں زیادہ تر پیش کشیں سرکاری کمپنیوں کی تھیں۔

روشن مقام

گذشتہ سال تیل کی بلندقیمتوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی اور سرمایہ کاروں کے بہاؤ میں اضافے کے بعد مشرق اوسط عالمی سطح پر پہلی مرتبہ اپنےحصص پیش کرنے والوں (آئی پی اوز) کے لیے ایک روشن مقام بنا ہوا ہے۔ ابوظبی میں ایڈنوک گیس کی قیمت میں 27 فی صد اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس نے رواں ماہ کے اوائل میں سال کے اوائل میں دنیا کے سب سے بڑے آئی پی او میں 2.5 ارب ڈالر جمع کیے تھے۔ابراج انرجی سروسز نے عمان میں اپنی پیش کش کی قیمت سے قریباً 18 فی صد اضافہ کیا ہے۔

الانصاری ایکس چینج کوقریباً 60 سال پہلے قائم کیا گیا تھا۔اس وقت متحدہ عرب امارات میں اس کی 230 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ان کی وجہ سے یہ ملک کی سب سے بڑی ایکس چینج کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایکس چینج سروسزکے علاوہ یہ ترسیلاتِ زر،گھریلو ملازمین کی ادائی کے لیے خدمات، بچت کے منصوبے اور کمپنیوں کے لیے نقدیوں کے انتظام کی بھی پیش کش کرتا ہے۔

الانصاری نے 2022 میں 59 کروڑ50لاکھ درہم کا خالص منافع حاصل کیا اور 2023 میں کم از کم 60 کروڑ درہم کا منافع حصص داران میں تقسیم کرنے کی توقع ہے۔ کمپنی اس کے پراسپیکٹس کے مطابق، اس کے بعد خالص منافع کے کم سے کم 70 فی صد کی کم از کم ادائی کے تناسب کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ابوظبی کمرشل بینک، ای ایف جی ہرمز اور امارات این بی ڈی کیپٹل اس پیش کش کا انتظام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں