بائیڈن نے قتل عام پر گفتگو کی جگہ آئس کریم کی باتیں شروع کردیں، امریکی حیران

"3 بچے اور 3 بالغ ابھی مر گئے، بائیڈن کہ رہے میں آئس کریم کھاتا ہوں‘‘ طنزیہ ٹویٹس کی بھرمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی شہری جس وقت صدر جو بائیڈن کی ٹینیسی میں سکول کے قتل عام کے بارے میں تقریر کا انتظار کر رہے تھے تھے کہ انہیں اس وقت شدید حیرانی کا سامنا کرنا پڑا کہ بائیڈن نے غیر متوقع طور پر ہنستے مسکراتے اپنی آئس کریم سے محبت کا ذکر چھیڑ دیا۔ ٹینیسی کے سکول میں کم از کم تین بچوں اور تین بالغ افراد کو مار دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں ہنستے ہوئے نظر آنے کے بعد بائیڈن کے متعلق سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصرے آنا شروع ہوگئے بہت سے لوگوں نے ان پر تکلیف دہ الفاظ سے حملہ کیا۔

گردش کرنے والی ویڈیو میں بائیڈن وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ سکرین کے نیچے لکھا ہے "بائیڈن نیش وِل کے سکول میں ہونے والی ہلاکت خیز فائرنگ سے خطاب کر رہے ہیں۔" تاہم 80 سالہ امریکی صدر "چاکلیٹ چپ آئس کریم" سے اپنی محبت کا تذکرہ کرکے حاضرین سے ہنسی مذاق میں مصروف ہیں۔ ان کی حرکتوں پر وہاں موجود لوگوں کی ہنسی بھی سنائی دے رہی ہے۔

بائیڈن نے کہا "میرا نام جو بائیڈن ہے، میں ڈاکٹر جل بائیڈن کا شوہر ہوں، اور مجھے چاکلیٹ چپ آئس کریم بہت پسند ہے۔ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کیونکہ میں نے سنا تھا کہ وہاں چاکلیٹ چپ آئس کریم ہے۔ ویسے میرے پاس ایک فریج ہے۔ اوپر اس آئس کریم سے بھرا ہوا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں؟ نہیں میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا بائیڈن اب ایک مزاحیہ اداکار بن گیا ہے جو ہمیشہ لوگوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا ہے؟ ایک اور صارف نے لکھا "تین بچے ابھی مر گئے۔ تین بالغ ابھی مر گئے۔" بائیڈن کے ابتدائی ریمارکس یہ ہیں "میں نیچے چلا گیا کیونکہ میں نے سنا تھا کہ وہاں چاکلیٹ چپ آئس کریم تھی۔"

ایک ٹوئٹر صارف نے بائیڈن کا دفاع بھی کیا اور کہا لگتا ہے بائیڈن نے یہ ریمارکس خواتین کے بزنس سمٹ میں کیے ہیں اور اس کا تعلق سکول میں ہونے والے فائرنگ کے واقعہ سے نہیں تھا۔ دفاع کرنے والے کو ایک اورنے جواب دیا کہ بائیڈن اس گفتگو کو کسی اور انداز میں بھی شروع کر سکتے تھے۔ انہوں نے تمام طریقوں میں سے صرف آئس کریم کاہی انتخاب کیا اور سکول میں قتل عام کے متعلق کچھ بات نہیں کی۔

بائیڈن پر کڑی تنقید شروع ہوگئی اور صارفین نے امریکہ کو درپیش بہت سے مسائل کا بھی تذکرہ شروع کردیا اور کہا کہ ان بڑے مسائل کے دوران صدر کو آئس کریم سے اپنی محبت کے متعلق گفتگو کرنا ہی یاد رہا۔

ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ ڈزنی 7 ہزار کارکنوں کو برطرف کر رہا ، فیس بک 15 ہزار کارکنوں کو برطرف کر رہا ۔ ایمازون 25 ہزار ملازمین کو خدا حافظ کہ رہا، ایک سے زیادہ بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں، اسی دوران نش ویلے میں ایک سکول میں ہولناک فائرنگ میں لوگوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ ایسے میں بائیڈن کی بات سنیے۔ ’’ میں آئس کریم کھاتا ہوں ... میں نیچے چلا گیا کیونکہ میں نے سنا تھا وہاں چاکلیٹ چپ آئس کریم ہے‘‘۔ تاہم بعد ازاں بائیڈن نے نیش وِل کے ایک پرائمری سکول میں ہونے والی فائرنگ کو "قابل نفرت" قرار دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں