نیتن یاہو سے نیک نیتی سے بات کرنے کے لیے کنیسٹ میں واپس جائیں گے: بینی گینٹز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے عدالتی اصلاحات کےمعاملے کو کنیسٹ کےنئے سیشن میں منتقل کرنے کے اعلان کے بعد احتجاج کرنے والے رہ نماؤں نے نیتن یاھو کا بیانیہ مسترد کردیا ہے۔

"آمریت مسلط کرنے کی چال"

عدالتی اصلاحات کے مخالف رہ نماؤں کا خیال ہےکہ نیتن یاہو کی ترامیم کو ملتوی کرنا بعد میں آمریت کو دوبارہ مسلط کرنے کی چال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم احتجاج کی خاطر سڑکوں پر ہی رہیں گے۔

تاہم سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے نیتن یاہو کی تقریر کا خیرمقدم کرتےہوئے برطرف وزیر دفاع یو آو گیلنٹ کی عہدے پر بحالی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کنیسٹ میں واپس جائیں گے اور نیتن یاہو سے نیک نیتی سے بات کریں گے۔

ہڑتال کی معطلی

نیتن یاہو کی جانب سے عدالتی ترامیم کو ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد یونین نے ملک گیر ہڑتال کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

لیبر یونین اور کاروباری اداروں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ"جس ہڑتال کا آپ نے آج صبح اعلان کیا تھا وہ ختم کردی گئی ہے۔ ہسٹادرٹ یونین کے سربراہ آرنون بار ڈیوڈ نے نیتن یاہو کے اس اقدام کی تعریف کی اور باہمی اتفاق رائے سے ترمیم پر کام کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔

"خانہ جنگی کو نہیں"

Ynet نیوز سائٹ کے مطابق اسرائیلیوں سے خطاب میں نیتن یاہو کے حوالے سے کہا ہے کہ "اسرائیل میں کوئی خانہ جنگی نہیں ہو سکتی۔"

سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنی فوج کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور اس کی فوج فوجی خدمات انجام دینے سے انکار کرتے ہوئے برقرار نہیں رہ سکتی۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل میں نام نہاد عدالتی ترامیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے "ٹائمز آف اسرائیل" اخبار نے اطلاع دی کہ جیوش پاور پارٹی نے اعلان کیا کہ اس کے رہ نما قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے عدالتی ترامیم کو ملتوی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور حکومت کو کنیسٹ کے اگلے اجلاس تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اگلا سیشن مئی میں شروع ہوگا۔

قانون سازی کا موقع

اخبار نے کہا کہ اس ڈیڈ لائن سے نیتن یاہو کو اپوزیشن شخصیات کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ترامیم سے متعلق قانون سازی کی کوشش کرنے کا موقع ملے گا۔

اس نے اشارہ کیا کہ بن گویر کا موقف نیتن یاہو کے "نیشنل گارڈ" کی تشکیل کی منظوری کے معاہدے کے بدلے میں آئی ہے، جسے بن گویر کابینہ کے اگلے اجلاس میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "نیشنل گارڈ" کو وزارت قومی سلامتی کی کمان میں رکھا جائے گا۔ یہ وزارت اس وقت بن گویر کے پاس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں