امریکی سینیٹ میں عراق جنگ کے عشروں پرانے اجازت نامہ کی تنسیخ کا بِل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی سینیٹ کی اکثریت نے بدھ کے روزعراق میں ماضی کی جنگوں کے دوعشرے پرانے اختیارات کو منسوخ کرنے کے لیے قانون سازی کی حمایت کردی ہے،جب کہ کانگریس جنگ میں فوج بھیجنے کے فیصلے پراپنے کردار کو دوبارہ ثابت کرنے پر زور دے رہی ہے۔

سینیٹ میں سنہ1991 اور 2002 میں فوجی طاقت یا اے یو ایم ایف کے استعمال کے اختیارات کو منسوخ کرنے کے قانون کے حق میں 66 ووٹ آئے ہیں جبکہ تیس ارکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔اس کے حق میں ووٹوں کی تعدادخلیج اورعراق کی جنگوں کو باضابطہ طور پر ختم کرنے والے اقدام کی منظوری کے لیے درکار51 ووٹوں کی اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔

فوجی طاقت کے استعمال یا اے یو ایم ایف کے لیے دو اجازت ناموں کی تنسیخ کوقانون بننے کے لیے اب بھی ری پبلکن کےزیرِقیادت ایوانِ نمائندگان سے منظوری ضروری ہے لیکن وہاں اس کے امکانات کم یقینی ہیں۔

سینیٹ میں جنگی اجازت نامے کی تنسیخ کے خلاف تمام ووٹ ری پبلکن ارکان ہی کے تھے اورایوان میں پارٹی کے رہنما مِچ میککونل نے اس بل کی مخالفت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

صدرجوبائیڈن یہ کَہ چکے ہیں کہ اگر یہ قانون ان کی میز تک پہنچ جاتا ہے تو وہ اس پر دست خط کردیں گے۔

یادرہے کہ مارچ 2003ء میں امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق پرحملہ کردیا تھا۔اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں عراقیوں اور ہزاروں امریکیوں کی جانیں گئی تھیں۔اس حملے کے بیس سال بعد سینیٹ میں اجازت نامے کی تنسیخ کی منظوری ایک ایسی جنگ سے دورایک تاریخی قدم ہے جس کے نتیجے میں مشرقِ اوسط میں ایک پیچیدہ پالیسی نےامریکی سیاست میں سخت تقسیم پیداکردی ہے۔

یہ امریکی قانون سازوں کی کانگریس کا یہ اختیار واپس لینے کی بھی تازہ ترین کوشش ہے کہ آیا فوجیوں کو جنگ میں بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔تنسیخ کے حامیوں کاکہنا ہے کہ سینیٹ اور ایوان نمایندگان کی جانب سے منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس کوغیر مناسب طریقے سے امریکی فوج کو جنگ میں جھونکنے کا اختیار سونپ دیا گیا تھا اور پھرکانگریس کے دونوں ایوان جنگ کے غیرمحدوداجازت نامے کو منسوخ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں