سپریم لیڈر خامنہ ای نے "شیطان بزرگ" کے نعرے کو نظرانداز کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوم نوروز کے موقع پر ایران میں رہبر انقلاب اسلامی علی خامنہ ای کی جانب سے کی گئی تقریر کا بینر جسے "اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی" نےشائع کیا۔ ان کی تقریرکا مکمل عربی متن ایرانی خبر رساں ادارے کی ویب گاہ، 21 مارچ کو شائع کیا گیا۔ اس تقریر میں ایرانی سپریم لیڈرخامنہ ای نے امریکا یا اسرائیل کا نام لے کر یا ان کے خلاف براہ راست منفی اشارے نہیں کیے یا مغربی سیاسی نظام پر طنز نہیں کیا!

"معیشت" ان کی تقریر کا لب لباب اور مرکز تھا۔ اس طرح، آیت اللہ خامنہ ای نے نوٹ کیا کہ "1401 میں عوام کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ملک کی معیشت تھا جس کا براہ راست تعلق لوگوں کی روزی روٹی سے ہے۔"

گذشتہ شمسی ہجری سال 1401ھ میں معیشت نہ صرف پہلی ترجیح تھی، بلکہ سپریم لیڈر نے اسے نئے سال کا سنگ بنیاد بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں 1402 میں ہمارا بنیادی مسئلہ بھی معیشت کا مسئلہ ہے۔"

خامنہ ای نے مزید کہا جب انہوں نے عوامی سطح پر ان گہرے مخمصوں کی موجودگی کا اعتراف کیا جن کے لیے بنیاد پرستانہ علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں کہا کہ "ہمارے مسائل کم نہیں ہیں اور ہمیں ثقافتی اور سیاسی میدان میں مختلف مسائل درپیش ہیں، لیکن اس سال کا اہم مسئلہ معیشت ہے."

روایتی نعروں کی غیر موجودگی

جب ’’معیشت‘‘ کی بات آئی تو انقلابی زبان غائب تھی اور نوروز کے موقع پر سرکاری تقریر میں ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ یا ’’شیطان بزرگ‘‘ کے نعرے موجود نہیں تھے۔

ایرانی انقلاب کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے "مغرب" پر طنز کرنے سے گریز کے ساتھ ان کی معیشتوں کی مضبوطی کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جن مسائل سے دوچار ہیں انہیں حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے اور کام کرنا چاہیے اور ذمہ داروں کو کوشش کرنی چاہیے۔"

خامنہ ای نے عالمی اقتصادی بحرانوں کے جمع ہونے پر توجہ دیتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ "آج دنیا کے بہت سے ممالک مشکلات کا شکار ہیں۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک خاص اقتصادی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، یہاں تک کہ وہ امیر ممالک بھی جن کی معیشت مضبوط اور ترقی یافتہ معاشی نظام ہے۔ وہ واقعی مسائل اور مخمصوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔"

عام مصائب

اپنی تقریر میں ہم آہنگی کے نکات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ زندگی کی تکالیف صرف ایران کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ کہ تمام ممالک "تلخیاں" برداشت کرتے ہیں مگر مشکلات کا تناسب مختلف ہے۔

قومی آمدنی کی سطح اور حکومتوں کی حل تلاش کرنے کی صلاحیت اہم ہے۔ اس طرح وہ لوگوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایرانی حکومت باقیوں سے مختلف نہیں ہے اور یہ کہ وہ عالمی بحران کی واحد ذمہ داری نہیں لیتی، تاہم انہوں نے اپنی تقریر میں حکام سے حل تلاش کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں