لزبن میں اسماعیلی مرکزمیں چاقوحملہ دہشت گردی نہیں:پرتگیزی پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پرتگیزی پولیس نے دارالحکومت لزبن میں واقع اسماعیلی مرکز میں چاقوحملے میں دہشت گردی کو خارج ازامکان قراردے دیا ہے۔اس مرکز میں گذشتہ روز چاقو سے حملے میں دو خواتین ہلاک ہوگئی تھیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ مبیّنہ حملہ آورکی شناخت ایک افغان پناہ گزین کے طور پر ہوئی ہے۔وہ منگل کے روز تشدد کے اس واقعہ سے قبل ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار تھا۔

عدالتی پولیس کے سربراہ لوئس نیویزکا کہنا ہے کہ’’اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ یہ دہشت گردانہ حملہ تھایا مشتبہ شخص کسی بنیاد پرستی میں ملوّث ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ’’یہاں جس چیز کا کردار ہوسکتا ہے، وہ یہ کہ یہ ایک ذہنی بحران تھا لیکن صرف نفسیاتی تشخیص ہی سے اس کا تعیّن کیا جاسکتا ہے‘‘۔

عینی شاہدین کے مطابق ملزم منگل کے روز اسماعیلی مسلم مرکزمیں (پرتگیزی؟) زبان کی کلاس لے رہا تھا۔اس دوران میں کسی سے فون پرگفتگو کے بعد اچانک اس کا رویّہ تبدیل ہوگیا۔

اس نے پہلے ایک ٹیچر پرحملہ کیا۔پھراس کے چاقوؤں کے وارسے مرکز میں کام کرنے والی دو خواتین شدید زخمی ہوگئی تھیں اوروہ بعد میں جان کی بازی ہارگئیں۔وہاں موجود پولیس نے اس مشتبہ شخص کو گولی مارکرزخمی کردیا تھا اور وہ بدھ کواسپتال میں زیرِعلاج تھا۔

تفتیش کاروں نے اس مشتبہ شخص کے اپنے آبائی ملک افغانستان سے یونان پہنچنے کے راستے کا سراغ لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یونان میں اس کی بیوی آگ لگنے سے ہلاک ہو گئی تھی۔

نیویز نے بتایا کہ مشتبہ ملزم تین چھوٹے بچّوں کا باپ ہے۔ وہ2021 میں پرتگال پہنچا تھا اور آیندہ دنوں میں اپنے بچّوں کے ساتھ جرمنی جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

واضح رہے کہ شیعہ امامی اسماعیلیوں کوعام طورپراسماعیلی کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ مسلمانوں کی شیعہ شاخ کے اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی ویب سائٹ کے مطابق اسماعیلی دنیا بھر کے 25 سے زیادہ ممالک میں رہتے ہیں اورقریباً ڈیڑھ کروڑافراد پر مشتمل ثقافتی طورپرمتنوع کمیونٹی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں