پرتگال: اسماعیلی مرکز میں دو خواتین کے قاتل افغان شہری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پرتگال کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جس افغان شہری نے دارالحکومت لزبن کے اسماعیلی مرکز پر کل منگل کو ایک حملے میں دو خواتین کو چاقو کے وار کر کے قتل کیا تھا اس کا نام عبدالبشیر ہے اور اس کی عمر تقریباً 30 سال ہے، 40 سال نہیں جیسا کہ پہلے کہا جا رہا تھا۔

ایک معروف مقامی اخبار نے اپنی رپورٹ میں ہلاک ہونے والی دونوں خواتین کی تصاویر کے حملہ آور کی ایک ویڈیو بھی شائع کی۔

اس ویڈیو میں، جسے دو سال قبل یونان میں فلمایا گیا تھا، عبد البشیر اپنی مشکلات کے بارے میں بات کر رہا ہے، سب سے پہلے وہ اپنی اہلیہ کی موت کا ذکر کرتا ہے جو یونانی جزیرے لیسبوس پر ایک پناہ گزین کیمپ میں آتشزدگی سے ہلاک ہوگئی تھی۔ یہ واقعہ اس کی آمد کے 4 یا 5 ماہ بعد پیش آیا تھا۔

ویڈیو میں وہ نوکری تلاش کرنے اور اکیلے اپنے تین چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی دشواری کے بارے میں بھی بات کرتا ہے۔

اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس نے ایک سال تک اپنے مسائل کی اطلاع تمام مواصلاتی ذرائع سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کو دی، اور یہ کہ ہر کوئی اس سے کہتا رہا کہ صبر کرو، "رکو، انتظار کرو"۔

ویڈیو میں وہ بتاتا ہے کہ وہ انگریزی میں روانی رکھتا ہے اور یونیورسٹی سے کمیونیکیشن انجینئرنگ میں فارغ التحصیل ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات پتہ چلی ہے کہ وہ مرکز میں پرتگالی زبان کی تعلیم حاصل کر رہا تھا جہاں اس سمیت 16 افغان طلباء پرتگالی زبان سیکھنے جاتے تھے ۔ وقوعہ کے روز ایک جھگڑے کے دوران وہ مشتعل ہوگیا اور وہاں موجود ایک پرتگالی استاد کے سینے اور گردن میں چھرا گھونپ دیا۔ اس کے بعد مرکز سے فرار ہونے کی کوشش میں ایک کمرے میں موجود دو خواتین ملازمین پر چاقو سے کرکے انہیں قتل کیا ۔ ہلاک ہونے والی دونوں خواتین دو پرتگالی مسلمان تھیں۔ ان میں ایک کا نام فرانہ صدرالدین تھا اور اس کی عمر 20 سال تھی جبکہ دوسری 40 سالہ ماریانہ جدوگی تھی۔

حملہ آور کو ران میں گولی ماری گئی

پولیس نے جب اسماعیلی مرکز کے باہر جب حملہ آور کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس نے چاقو سے ان پر حملہ کیا تاہم پولیس نے ران میں گولی مار کر اسے ڈھیر کر دیا۔

عبدالبشیر کو زخمی حالت میں گرفتاری کے بعد مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی ران سے گولی نکال دی گئی اور کیس کے بارے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں