پُرتگال کے اسماعیلی مرکز میں دو خواتین کو قتل کرنے والا افغان کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پرتگالی وزیر اعظم انتونیو کوسٹا نے کہا ہے کہ ایک افغانی تارک وطن نے گذشتہ روز پرتگالی دارالحکومت لزبن کے اسماعیلی سنٹر پر ایک بڑے چاقو سے حملہ کیا اور دو خواتین کو ہلاک کر دیا تھا۔

حملہ آور ایک 40 سالہ اسماعیلی رنڈوہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔ حملے کے بعد وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس کی گولی سے اس کی ران زخمی ہے جس کا اعلاج کیا جا رہا ہے۔ پرتگالی وزیر اعظم انتونیو کوسٹا نے اس واقعے کو "انفرادی کارروائی" قرار دیتے ہوئے کہا اس کی وضاحت کرنا ابھی قبل از وقت ہے، لیکن یہ ایک جرم ہے"۔

مقامی حکام نے حملہ آور کے بارے میں کوئی اور معلومات جاری نہیں کیں اور نہ ہی اس کی تصویر شائع کی ہے۔ تاہم مقامی میڈیا پر آنے والی اطلاعات ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کےعلم میں آئی ہیں۔ ان اطلاعات میں تفتیش کاروں میں سے ایک کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور "نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے" اور سیاسی پناہ کا متلاشی ہے۔ اس کی اہلیہ کا انتقال یونان کے ایک مہاجر کیمپ میں ہوا تھا۔ وہ چھ ماہ قبل پرتگال آیا۔ وہ کچھ عرصے سے پرتگالی زبان سیکھ رہا تھا۔

جہاں تک مرنے والی خواتین کا تعلق ہے تو مرکز کے امام اور اسماعیلی کمیونٹی، جس کی پرتگال میں تعداد آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے، کے سربراہ ناظم احمد نے تصدیق کی کہ وہ دو پرتگالی اسماعیلی مسلمان خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔ یہ دونوں خواتین مرکز میں کام کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر 20 سال اور دوسری کی عمر 40 سال ہے جب کہ حملہ آور نے 25 سال قبل قائم ہونے والے سینٹر میں کام کرنے والے ایک استاد کو زخمی کیا۔ اسے تشویشناک حالت میں قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں