جرمنی میں مسلمان خواتین نے حجاب کا مقدمہ جیت لیا، مسلمان معلمات کو حجاب کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ برلن میں مسلمان معلمات کو حجاب پہننے کی اجازت دی جائے گی کیونکہ انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں دائر مقدمے میں ریاست کو شکست دیتے ہوئے حجاب پہننے کا مقدمہ جیت لیا ہے۔

برلن کی وزارت تعلیم نے اسکول کے پرنسپلوں کو بھیجے گئے ایک سرکاری خط میں کہا ہے کہ خواتین اساتذہ کے لیے ہیڈ اسکارف اور مذہبی علامات پہننے کی عام طور پر اجازت ہوگی۔ صرف انفرادی صورتوں میں اس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے بہ شرطیکہ کسی معلمہ کا حجاب اسکول کے امن کے لیے خطرہ ہوں۔

برلن کے غیر جانبداری کے قانون کے تحت جو سرکاری ملازمین کو مذہبی لباس اور علامتیں پہننے سے روکتا ہے شہر میں خواتین اساتذہ پر 2005 سے ہیڈ اسکارف پہننے پر پابندی عائد ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں جاری کیے گئے متعدد عدالتی فیصلوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہیڈ اسکارف پر جامع پابندی امتیازی سلوک اور آئین کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

سینیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن یوتھ اینڈ فیملی نے پرنسپلز کو بتایا کہ انہیں عدالت کے تازہ ترین فیصلوں کی تعمیل کرنی چاہیے۔

بتایا جاتا ہے کہ 2020 میں فیڈرل لیبر کورٹ (بی اے جی) نے فیصلہ دیا تھا کہ برلن میں مسلم خواتین اساتذہ پر نقاب پہننے پر پابندی نہیں لگائی جائے گی، تاہم برلن نے اس فیصلے کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے شکایت درج کرائی تھی۔ البتہ وفاقی آئینی عدالت نے اس شکایت کو قبول نہیں کیا اور مسلمان خواتین اساتذہ کو حجاب کی اجازت دے دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں