حمزہ یوسف نے اسکاٹ لینڈ کے وزیر اعظم کا حلف اٹھالیا، برطانوی وزیراعظم کی مبارکباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حمزہ یوسف نے کل بدھ کو اسکاٹ لینڈ کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ وہ مغربی یورپ میں حکومت کے پہلے مسلمان سربراہ بن گئے، لیکن ان کی پارٹی کے اندر اختلافات بھی موجود ہیں۔

37 سالہ یوسف سکاٹش نیشنل پارٹی کے سب سے کم عمر رہ نما ہیں اور انہوں نے پارٹی کی آزادی کی مہم کو دوبارہ متحرک کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

لیکن پیر کو نکولا اسٹرجن کی جانشینی کی دوڑ جیتنے کے بعد حریف کیٹ فوربس کے ان کی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کے بعد ان کی قیادت کو سوالیہ نشانات کا سامنا ہے۔

یوسف نے سبکدوش ہونے والی وزیر خزانہ کو نچلے عہدے کی پیشکش کی، حالانکہ ان کا نتیجہ الیکشن جیتنے کے قریب تھا۔ انہوں نے پارٹی ممبران کے ترجیحی ووٹوں کا 48 فی صد حاصل کیا جب کہ حمزہ یوسف نے 52 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

یوسف کے اتحادیوں نے کہا کہ فوربس نےاپنے ایک بچے کی حالیہ پیدائش کے بعد اپنے خاندان کے لیے زیادہ وقت دینے کی خواہش سے متعلق موقف سے انکار کیا۔ لیکن اخباری رپورٹوں میں اس کے حامی اس عہدے کی پیشکش پر تنقید کرتے ہیں۔

کل بدھ کو حمزہ یوسف نے سکاٹ لینڈ کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے سربراہ لارڈ کولن سدرلینڈ کی طرف سے حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ کے ارکان کو جمع کرنے میں اپنا دن گذارا۔

حکومت کے نئے سربراہ نے سکاٹ لینڈ کے لیے صدر منتخب کرنے کے حق میں بادشاہت کے خاتمے کے لیے عوامی حمایت کے باوجود "مجاز بادشاہ چارلس کی وفاداری " کا عہد کیا۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے منگل کو سکاٹش نیشنل پارٹی کی قیادت جیتنے کے بعد سکاٹش پارلیمنٹ کی جانب سے وزیر اعظم منتخب ہونے کے فوراً بعد ایک فون کال میں حمزہ یوسف کو مبارکباد دی تھی۔

حمزہ یوسف نے کہا کہ رابطہ اور فون پر بات چیت"تعمیری" تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے سوناک پر زور دیا تھا کہ لندن کو "عوام کی جمہوری خواہشات اور سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ" کا احترام کرنا چاہیے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق سوناک نے اپنی طرف سے اس بات پر زور دیا کہ دونوں حکومتوں کو یومیہ پالیسی کے مسائل پر مل کر کام کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں