روسی فوج کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو تیار ہیں: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چین اور روس کے درمیان حالیہ بڑھتے ہوئے تعلقات کے درمیان چینی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ وہ تزویراتی رابطے کو بڑھانے کے لیے روسی فوج کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزارت کے ترجمان ٹان کافی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک روسی فوج کے ساتھ ہم آہنگی بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

"ایجنسی فرانس پریس" کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ چین، روس اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ بحری مشقوں سے تینوں ملکوں کے مشترکہ فوجی مشنز کی صلاحیتوں کو تقویت ملی ہے ۔ ان مشقوں نے تینوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو بھی مزید گہرا کیا ہے۔

خیال رہے تینوں ملکوں نے خلیج عمان میں 15 سے 19 مارچ تک جاری رہنے والی مشقوں میں حصہ لینے کے لیے 12 بحری جہازوں سمیت خصوصی دستے بھیجے تھے۔

انہوں نے تنازعہ کی عسکریت پسندی کے نتائج سے خبردار کیا اور آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ ایک مرتبہ جب آپ پنڈورا باکس کھولیں گے تو خطے میں توازن بگڑ جائے گا۔ ٹان کافی نے مزید کہا کہ اس سے علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے اور چین اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔


خیال رہے 15 ستمبر 2021 میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی تعمیر سمیت جدید فوجی ٹیکنالوجیز کے تبادلے کے لیے ایک خصوصی سیکیورٹی معاہدہ (AUKUS) کیا تھا۔

یہ معاہدہ اس وقت بحر ہند اور بحرالکاہل کے سمندروں میں چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں ہوا تھا۔

تینوں ملکوں کو ان دو خطوں میں چین کے اثر و رسوخ اور فوجی موجودگی میں اضافے پر تشویش تھی۔ بیجنگ اور کچھ مغربی ملکوں خاص طور پر حال ہی میں واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں چین، روس اورایران کے درمیان تعلقات میں بہتری پر مغربی ممالک کو تشویش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں