امریکانےایران کے اثاثےمنجمد کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی،معاوضہ اداکرنےکاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ امریکا نے کچھ ایرانی اثاثے منجمد کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔اس نے امریکا کو ایران کواس کا ہرجانہ (معاوضہ) ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی رقم کا تعین بعد کے مرحلے میں کیا جائے گا۔

دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے ایران کے اس دعوے پر فیصلہ سنایا ہےکہ امریکا نے عدالتوں کوغیر قانونی طور پر ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیاردیا تھا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب گذشتہ ہفتے شام میں ایران کی حمایت یافتہ فورسزاور امریکی اہلکاروں کے درمیان مہلک جھڑپیں ہوئی ہیں اورانھوں نے ایک دوسرے کو فضائی اورزمینی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔اس کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزیداضافہ ہوا ہے۔

اس وقت ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ءمیں طے شدہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف ایرانی ڈرون کے استعمال کی اطلاعات کے بعد تعلقات مزید کشیدہ ہیں۔

عالمی عدالت انصاف میں ایران نے واشنگٹن کے خلاف یہ مقدمہ 2016 میں 1955ء میں طے شدہ دوستی معاہدے کی مبیّنہ خلاف ورزی پردائر کیا تھا۔اس کے تحت امریکی عدالتوں کو ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی اورامریکا میں ایران کے مرکزی بینک کی 1.75 ارب ڈالرکی خطیررقم بھی ضبط کرلی گئی تھی۔یہ رقم دہشت گردی کے حملوں کے متاثرین کو معاوضے کے طور پر دی جاناتھی۔

امریکا کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو اس پورے کیس کو خارج کر دینا چاہیے کیونکہ ایران کے ’’ہاتھ ناپاک‘‘ہیں اور اثاثوں کی ضبطی تہران کی جانب سے مبیّنہ طورپردہشت گردی کی سرپرستی کا نتیجہ ہے جبکہ ایران بین الاقوامی دہشت گردی کی حمایت سے انکارکرتا ہے۔

یادرہے کہ 1950ء کی دہائی میں دوستی کا معاہدہ ایران کے 1979ء میں برپا شدہ انقلاب سے بہت پہلے طے پایاتھا۔اس انقلاب نے امریکا کے حمایت یافتہ رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھااور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔ایران میں نیا نظام آنے کے بعد دوستی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہی تھی اورواشنگٹن بالآخر 2018 میں اس دوستی معاہدے سے دستبردارہو گیا۔

اقوام متحدہ کی سب سے بڑی عدالت آئی سی جے کے فیصلے لازم ہیں، لیکن اس کے پاس ان کے نفاذ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔امریکا اور ایران ان معدودے چند ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے ماضی میں اس کے فیصلوں کونظراندازکیا ہے اور ان پرعمل درآمد نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں