طالبان نے رمضان میں موسیقی بجانے پرافغان خواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بندکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے شمال مشرقی علاقہ بدخشاں میں خواتین کے زیر انتظام چلنے والے ایک ریڈیو اسٹیشن کو رمضان کے مقدس مہینے میں موسیقی بجانے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

صدائے بانوواں، جس کا دری زبان میں مطلب خواتین کی آواز ہے، افغانستان میں خواتین کے زیر انتظام واحد ریڈیو اسٹیشن ہے۔ اس کا آغاز 10 سال پہلے ہوا تھا۔ اس میں آٹھ ملازمین کام کرتے ہیں اور ان میں چھے خواتین ہیں۔

صوبہ بدخشاں کے ڈائریکٹر برائے اطلاعات و ثقافت معزالدین احمدی نے کہا کہ اسٹیشن نے رمضان کے دوران میں گانے اور موسیقی نشر کر کے "امارت اسلامیہ کے قوانین اور ضوابط" کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے اور اسی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا ہے۔

احمدی نے کہا:’’اگریہ ریڈیو اسٹیشن امارت اسلامیہ افغانستان کی پالیسی کو قبول کرتا ہے اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ اس طرح کی چیز کو دوبارہ نہیں دہرائے گا، تو ہم اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دیں گے‘‘۔

اس ریڈیو اسٹیشن کی سربراہ ناجیہ سروش نے کسی بھی خلاف ورزی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسے بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انھوں نے اسٹیشن کی بندش کو ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا کہ طالبان نے ہمیں بتایا کہ آپ نے موسیقی نشر کی ہے جبکہ ہم نے کسی بھی قسم کی موسیقی نشر نہیں کی ہے۔

سروش نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 11 بج کر 40 منٹ پر وزارت اطلاعات وثقافت اور نظامت عامہ امر بالمعروف ونہی المنکر کے نمائندے اسٹیشن پہنچے تھے اور اسے بند کر دیا۔ اسٹیشن کے عملہ نے نظامت سے رابطہ کیا ہے لیکن وہاں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بندش کے بارے میں کوئی اضافی معلومات نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل میں اقتدار پر قبضے کے بعد بہت سے صحافیوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ افغان آزاد جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے مطابق فنڈز کی کمی یا عملہ کے ملک چھوڑنے کی وجہ سے بہت سے میڈیا ادارے بند ہو گئے ہیں۔

طالبان نے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے خواتین کو یونیورسٹی سمیت چھٹی جماعت کے بعد تعلیم اور زیادہ ترملازمتوں سے روک دیا ہے۔ البتہ موسیقی پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں اپنی سابقہ حکمرانی کے دوران، طالبان نے ملک میں زیادہ تر ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات پر پابندی عاید کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں