ترکیہ:صدارتی انتخابی مہم میں تشدد کا واقعہ؛اپوزیشن نے صدرایردوآن کوموردالزام ٹھہرادیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے شہراستنبول میں جمعہ کوحزب اختلاف کی ایک جماعت کے دفتر پر گولیاں چلائی گئیں۔اس کی خاتون رہ نما نے صدر رجب طیب ایردوآن پر الزام عایدکیا ہے کہ وہ اپنے تندوتیزبیانات کے ذریعے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

مسلح حملے میں آئی وائی آئی پارٹی کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کی رہ نما میرل اکسینر نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ گولیاں صدرایردوآن کی طرف سے آنے والی دھمکیوں کا نتیجہ تھیں۔

صدرایردوآن کی حکمراں جماعت آق نے اس حملے اور صدرکے خلاف الزامات دونوں کی مذمت کی ہے۔فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھااور وزیرداخلہ سلیمان سوئیلو نے بعد میں کہا کہ ملزم کو گرفتارکرلیا گیاہے۔پولیس کے ایک بیان کے مطابق بندوق ایک تعمیراتی نگران نے چلائی تھی جو چوری کی کوشش کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اکسینر نے فائرنگ کے بعد صدر کو ان کے پہلے نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ’’مسٹررجب ہمارے استنبول میں صوبائی صدارت کے دفترپرایک مسلح حملہ ہوا تھا۔یہ ترکیہ میں غصے کی علامت ہے۔حملہ آوروں کے حوصلے صدر کے اپوزیشن کے خلاف سخت الفاظ سے بڑھ گئے تھے‘‘۔

صدرایردوآن نے بدھ کے روز ٹیلی ویژن پرنشرہونے والے ایک انٹرویو کے دوران میں کئی باراکسینر کو نشانہ بنایا تھا اورانھیں خبردار کیا تھا کہ وہ ان کے نام کے بارے میں محتاط رہیں۔

انھوں نےاس ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’’میرا نام طیب ہے۔میرا لقب ایردوآن ہے۔ایردوآن اور طیب کے نام کے بارے میں محتاط رہیں۔جب آپ بولتی ہیں تو اس کے مطابق بات کریں۔مجھے اپنے ساتھ گڈمڈ نہ کریں‘‘۔

اکسینرکی آئی وائی آئی پارٹی ایردوآن مخالف اتحاد میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے جو 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں طیب ایردوآن کا مقابلہ کرے گی۔ ترک صدر کو سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ فروری میں ترکیہ کوہلا کر رکھ دینے والے تباہ کن زلزلوں اور مہنگائی کے بحران کی وجہ سے ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہرہوتا ہے کہ ان کے اورحزب اختلاف کے بلاک کے اہم امیدوار کمال کلیچ داراوغلو کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔

اکسینر کوان کے قوم پرست حامی "شی بھیڑیا" کہتے ہیں۔انھوں نے 2019 میں مرکزی اپوزیشن ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) کے ساتھ اتحاد کیا اور اسی سال بلدیاتی انتخابات میں صدر ایردوآن کی حکمراں جماعت آق کے خلاف فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

حملے کے بعد ٹویٹرپرایک پوسٹ میں کلیچ داراوغلو نے کہا کہ وہ ’’ایک مضبوط رہ نما ہیں،وہ ایک بھیڑیا ہیں۔تم اسے اس طرح ڈرا نہیں سکتے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں