ماربرگ وائرس: چار خلیجی ملکوں کی تنزانیہ اور ایکواٹوریل گنی کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

سعودی عرب نے بھی بیماری کے قابو میں آنے تک شہریوں کو ان دو ملکوں کے سفر سے گریز کا کہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتے کے روز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین نے ’’ مار برگ‘‘ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اپنے شہریوں کو تنزانیہ اور ایکواٹوریل گنی کا سفر ملتوی کرنے کی ہدایت کردی۔

سعودی پبلک ہیلتھ اتھارٹی "پریوینشن" نے اپنے شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنزانیہ اور ایکواٹوریل گنی کا سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ ان دونوں ملکوں میں "ماربرگ" وائرس پھیل گیا ہے۔ سعودی اتھارٹی کے ایک سرکاری ذریعہ نے بتایا کہ یہ سفارش بیماری پر قابو پانے تک کے لیے کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم وہاں موجود ملک کے شہریوں سے احتیاط برتنے اور مجاز حکام کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

کویتی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر شائع ایک بیان میں اپنے شہریوں سے تنزانیہ اور استوائی گنی کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کردی۔ بحرین کی خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے کہا کہ ہم تمام شہریوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الحال تنزانیہ اور استوائی گنی کی وفاقی جمہوریہ کا سفر نہ کریں۔

گزشتہ جمعرات کو عمانی وزارت صحت نے سفارش کی تھی کہ اس کے شہری انتہائی ضرورت کے علاوہ ان دونوں ممالک کا سفر نہ کریں۔ عمان ان دونوں ملکوں میں ماربرگ وائرس کی بیماری پھیلنے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ انتہائی متعدی بیماری ہے اور اس بیماری میں اموات کی شرح 60 سے لیکر 80 فیصد تک ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ماربرگ وائرس کا تعلق وائرس کے اسی خاندان سے ہے جس میں ایبولا وائرس بھی موجود ہے۔ ماربرگ وائرس میں مبتلا ہونے والے کو بخار، پٹھوں میں درد، گردے اور جگر کی خرابی اور بعض اوقات اندرونی اور بیرونی خون بہنے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماربرگ انسانوں کے درمیان کسی متاثرہ شخص کے خون یا رطوبتوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے یا آلودہ سطحوں اور دیگر مواد کے رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کی بیماری سے بچاؤ کی فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔

یہ وائرس پہلی مرتبہ 1967 میں جرمنی کے شہروں ماربرگ اور فرینکفرٹ اور سربیا کے علاقے بلغراد میں پھیلا تھا۔ مصری پھل چمگادڑ (Rousettus aegyptiacus) کو اس وائرس کا قدرتی میزبان سمجھا جاتا ہے۔ اس چمگادڑ کے ذریعہ یہ وائرس پھر لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں