بھارت:راہول گاندھی نے ہتکِ عزت کی سزا کے خلاف اپیل دائرکردی،سماعت 13 اپریل کوہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں حزب اختلاف کے رہ نما راہول گاندھی نے ہتک عزت کے مقدمے میں اپنے خلاف سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائرکردی ہے اوراپیل عدالت سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔اس سزاکے نتیجے میں انھیں عام انتخابات سے ایک سال قبل پارلیمان کی رُکنیت کا نااہل قراردے دیا گیا تھا۔

باون سالہ راہول گاندھی کوگذشتہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے ایک ریاستی قانون ساز کے دائرکردہ ہتک عزت کے کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت نے راہول گاندھی کی 2019 کی تقریر میں بیان کو وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر لوگوں کی توہین قراردیا تھا۔تاہم عدالت نے ان کی دوسال قید کی سزا معطل کردی تھی اور اب انھوں نے خود کو مجرم قراردینے کا فیصلہ کالعدم قراردلوانے کے لیے اپیل دائرکی ہے۔

راہول گاندھی کی قانونی ٹیم کے رکن ہرال پانوالا نے صحافیوں کو بتایا کہ اپیل کی ابتدائی سماعت 13 اپریل کو ہوگی۔راہول گاندھی نے مغربی ریاست گجرات کے شہر سورت میں کورٹ کمپلیکس سے باہربڑی تعداد میں جمع ہونے والے اپنےحامیوں اور کانگریس ارکان کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ’’اس جدوجہد میں سچائی میرا ہتھیار ہے اور سچ میری حمایت ہے‘‘۔راہول گاندھی کے ہمراہ ان کی چھوٹی بہن پریانکا وڈرا بھی ہوائی اڈے سے عدالت جانے والی بس میں سوارتھیں۔

بھارت کی قدیم سیاسی جماعت کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے گذشتہ عام انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران میں ایک تقریر میں دو مفرور تاجروں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا تھا کہ’’تمام چوروں کا نام مودی کیسے ہے؟‘‘

وزیراعظم مودی اوران کی بی جے پی نے ان انتخابات میں دوبارہ اقتدار حاصل کیا تھا۔ راہول گاندھی کی کانگریس نے پارلیمان کے 542 رکنی ایوان زیریں لوک سبھا کی صرف 52 نشستیں جیتی تھیں اور یہ اس کی عام انتخابات میں اب تک کی بدترین کارکردگی تھی۔

گذشتہ ماہ سورت کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قراردیا تھا کہ راہول گاندھی نے مودی کے لقب سے سبھی کو بدنام کیا ہے لیکن ان کے وکیل نے کہا کہ راہول گاندھی اعلیٰ سطح کی بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم مودی اور دونوں تاجروں کا حوالہ دے رہے تھے۔

پانوالا نے خبررساں ادارے رئٹرز کو بتایا کہ’’2019 کی تقریر کا مقصد مودی کا لقب رکھنے والے لاکھوں لوگوں کو بدنام کرنا نہیں تھا‘‘۔

اسی بیان پر راہول گاندھی کے خلاف ہتک عزت کے دو اور کیس دائر کیے گئے ہیں اور وہ 12 اپریل کو مشرقی شہر پٹنہ میں ان میں سے ایک مقدمے میں عدالت میں پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ راہول گاندھی حزب اختلاف کی سیاست کے مرکزی رہ نما ہیں اور وہ مودی کی بی جے پی کا بنیادی ہدف ہیں حالانکہ کانگریس پارٹی کے مقابلے میں اگلے عام انتخابات میں بی جے پی کا غلبہ نظر آتا ہے۔

حزب اختلاف کے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ان کا ٹرائل اور پارلیمنٹ سے ان کی نااہلی حکومت کے سخت ہتھکنڈوں کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔اس کے بعد حال ہی میں حزب اختلاف کے بعض ارکان کومختلف تحقیقات اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں