اوپیک پلس

تیل پیداوارمیں کٹوتی کا اعلان؛قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈیوں کے’مفاد‘میں ہے:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کریملن نے کہا ہے کہ روس، سعودی عرب اوردوسرے بڑے تیل پیداکنندگان ممالک کی جانب سے یومیہ پیداوار میں کٹوتی کے اعلان کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ عالمی منڈیوں کے ’’مفاد‘‘میں ہے۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور غیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ نے اتوار کے روزآیندہ ماہ سے یومیہ پیداوار میں دس لاکھ بیرل سے زیادہ کٹوتی کا حیران کن اقدام کیاہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال یوکرین میں تنازع کےآغازکے بعدعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن حالیہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ توانائی کی عالمی منڈیوں کے مفاد میں ہے کہ عالمی سطح پرتیل کی قیمتیں اچھی سطح پر رہیں۔انھوں نے کہا کہ دوسرے ممالک اس فیصلہ سے خوش ہوتے ہیں یا نہیں،یہ ان کا کام ہے۔

اس فیصلہ سے امریکاناراض ہوسکتا ہے، جوپہلے ہی سعودی عرب اور روس کی سربراہی میں اوپیک پلس کو گذشتہ سال تیل کی پیداوار میں کٹوتی پر تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تیل کی یومیہ پیداوار میں کٹوتی کا اعلان حفظ ماتقدم کے طورپرکیا گیا ہے اوراس کا مقصد مارکیٹ کومستحکم کرنا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ وہ اپنی یومیہ پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل کٹوتی کو سال کے آخر تک جاری رکھے گا۔ماہرین اس فیصلہ کو قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کاایک طریقہ قرار دیتے ہیں۔

روس کے توانائی کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ یہ اقدام تیل کی مارکیٹ میں ’’اعلیٰ اتار چڑھاؤ‘‘ اور’’غیریقینی‘‘کی وجہ سے بالکل جائزاور درست ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا:’’توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تیل کی عالمی مارکیٹ کی پیشین گوئی ایک اہم عنصر ہے‘‘۔

اوپیک پلس کے اس اعلان کے بعد پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، خام تیل کے دونوں سودوں میں ایک موقع پرقریباً آٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں