فرانسیسی وزیر کی’پلے بوائے‘ میگزین کے سرورق پر تصویر کی اشاعت پر تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عریاں مواد کی اشاعت کے لئے دنیا بھر میں بدنام ’پلے بوائے‘ میگزین کے سرورق پر تصویر کی اشاعت کے بعد فرانس میں خاتون وزیر مارلین شیپا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

شیپا کی ایک تصویر متنازعہ میگزین کے جس شمارے کے سرورق پر شائع کی گئی ہے اسی میں آگے چل کر ان کا 12 صفحات پر مشتمل ایک انٹرویو شامل ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے خواتین کے حقوق اور حساس مسائل پر بات کی۔

شیپا فی الحال سماجی اقتصادیات اور فرانسیسی ایسوسی ایشنز کی وزیر ہیں اور 2017 سے فرانسیسی حکومت کے رکن ہیں۔ وہ پلے بوائے کے سرورق پر سفید لباس پہنے نظر آئیں۔

فرانسیسی وزیر مارلین شیپا
فرانسیسی وزیر مارلین شیپا

اس پر فرانسیسی سیاست دانوں کی طرف سے تنقید کی گئی ہے۔ ناقدین میں وزیر اعظم الزبتھ بورن بھی شامل ہیں۔

بی ایف ایم ٹی وی نے وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ میگزین نے شیپا کی تصویر کو سرورق پر شائع کرن مناسب نہیں تھا، خاص طور پر اس عرصے کے دوران ایسا نہیں ہونا چاہیے"۔

فرانس اس وقت ایک سیاسی اور سماجی بحران سے گذر رہا ہے جس کی وجہ فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کا نے بڑے پیمانے پر عوامی مخالفت کے باوجود پنشن کے نظام میں اصلاحات کو آگے بڑھانے کا اعلان ہے۔

دوسری طرف 2022 کے صدارتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر آنے والے جان لک میلنچن نے "پلے بوائے" کے سرورق پر چیپا کی تصویر کی اشاعت پر تنقید کی۔

درایں اثناء فرانسیسی خاتون وزیر نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "خواتین کے جسم کو ہر جگہ اور ہر وقت کنٹرول کرنے کے حق کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ منافقوں اور ناقدین کے ساتھ احترام کے ساتھ فرانس میں خواتین آزاد ہیں۔ "

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے بھی اتوار کو ایک پریس انٹرویو کے دوران شیپا کا دفاع کرتے ہوئے اسے "ایک با کردار عورت" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "مارلن شیپا اپنی شخصیت اور انداز کے ساتھ ایک بہادر سیاست دان ہیں۔ ان کا طرز عمل مناسب نہیں مگر میں ان کا احترام کرتا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں