ناسا کا نصف صدی بعد ایک بار پھر انسانوں کو چاند پر بھیجنے کا مشن

ناسا کا خلائی مشن چاروں خلانوردوں کو لے کر اگلے سال کے اوائل میں چاند پر جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ’’ناسا‘‘ نے نصف صدی بعد ایک بار پھر انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے مشن کا بیڑا اٹھایا ہے۔ چاند پر جانے کے لیے پہلی بار ایک خاتون خلانورد کو منتخب کر لیا ہے۔

تفیصلات کے مطابق امریکی خلانورد کرسٹینا کوچ آرٹیمس ٹو مشن کے چار رکنی خلا نوردوں کی ٹیم میں شامل ہیں۔

کرسٹینا کوچ کو سب سے طویل مسلسل خلائی پرواز کرنے والی خاتون کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آرٹیمس ٹو مشن کی ٹیم میں پہلی بار ایک افریقی امریکن اور کینیڈین خلا نورد کا بھی انتخاب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ناسا کا خلائی مشن چاروں خلانوردوں کو لے کر اگلے سال کے اوائل میں چاند پر جائے گا، جس کے لیے اس ٹیم کی سخت ٹریننگ شروع ہوگئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ناسا کے آٹیمس ٹو مشن میں خلانوردوں کی یہ 4 رکنی ٹیم چاند پر نہیں اُترے گی لیکن ان کا یہ مشن بعد میں آنے والے خلابازوں کے لیے چاند پر اترنے کی راہ ہموار کرے گا۔

چاند پر آخری بار انسانی خلائی پرواز مشن اپولو 17کے ذریعے دسمبر 1972 میں گئی تھی۔ یاد رہے کہ چاند پر پہلی بار انسانی قدم 1969 میں اپولو مشن 11 کے تحت رکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں