زنگنان یااروناچل پردیش: چین اور بھارت کے درمیان علاقےکا نام تبدیل کرنے پرتنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین نے اروناچل پردیش پراپنا"خودمختار" علاقہ ہونے کا دعوے کااعادہ کرتے ہوئے اس کو زنگنان کا نام دیا ہے۔اس کے ایک دن بعد بھارت نے بیجنگ کی جانب سے اپنے علاقے کے کچھ حصوں کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔

چین نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست کا نام تبدیل کرنے پر تبصرہ منگل کے روز ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کیا تھا اور اس کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا:’’زنگنان (اروناچل پردیش) چین کے علاقے کا حصہ ہے‘‘۔

ترجمان کے مطابق ریاستی کونسل کی جغرافیائی ناموں کی انتظامیہ کی متعلقہ شرائط کے مطابق، چینی حکومت کے مجازحکام نے زنگنان کے کچھ حصوں کے ناموں کو معیاری بنایا ہے اوریہ اقدام چین کے خودمختارانہ حقوق کے تحت آتاہے۔

منگل کے روز بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اروناچل پردیش کوبھارت کا داخلی حصہ اور اٹوٹ انگ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ چین نے ریاست کے کئی مقامات کے نام تبدیل کر دیے ہیں۔

ادھر واشنگٹن میں ایک میڈیا بریفنگ میں امریکی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر نے چین کے دعوے پر بائیڈن انتظامیہ کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:’’ہم علاقوں کے نام تبدیل کرکے علاقائی دعووں کو آگے بڑھانے کی کسی بھی یک طرفہ کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں‘‘۔

چین کی شہری امور کی وزارت نے گذشتہ اتوارکو11 مقامات کے ناموں کو معیاری بنایا ہے۔ان میں جنوبی تبت کے پانچ پہاڑوں کے نام بھی شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں،ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان ہمالیہ کی بلندچوٹیوں پران کی طویل سرحد کے کچھ حصوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹرمیں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان معمولی جھڑپیں ہوئی تھیں۔اس علاقے پربیجنگ بھی دعوے دارہے۔

واضح رہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کے درمیان 3,800 کلومیٹر(2،360 میل) طویل سرحد 1962ء میں خونریزجنگ کے بعد بڑی حد تک پرامن رہی تھی مگر 2020 میں ہونے والی مسلح جھڑپوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں