برطانوی بچے پر 7 جنسی جرائم اور دو خواتین سے زیادتی کی کوشش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک 13 سالہ برطانوی بچے کو ایک انوکھے واقعے میں قید کی سزا کا سامنا ہے۔ برطانیہ کی اسپیشل کورٹ نے اسےاسے 7 جنسی جرائم کے مرتکب ہونے کا مجرم قرار دیا جس میں دو خواتین کے ساتھ زیادتی کی کوشش بھی شامل ہے۔

برطانیہ کے مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بچے کو جرائم کا ارتکاب کرنے کا مجرم قرار دیا گیا، جب وہ اس کی سماعت کرنے والی مجاز عدالت میں پیش ہوا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے 15 دسمبر 2022 کو پہلا جنسی حملہ کیا۔ پھر 6 بار اس کا ارتکاب کیا۔ موجودہ سال کے 17 اور 19 جنوری کے درمیان صرف تین دن کے اندر دیگر جرائم کا ارتکاب کیا۔

عدالت، پراسیکیوشن اور میڈیا نے کم عمر ملزم کی شناخت مخفی رکھی ہے اور سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر اس کی تصویر بھی سامنے نہیں لائی گئی کیونکہ برطانیہ میں قوانین ایسے معاملات میں نابالغوں کی شناخت ظاہر کرنے سے روکتے ہیں۔ تاہم یہ جرائم برطانیہ کے شمال میں برمنگھم کے قریب واقع قصبے "ٹیلفورڈ" میں پیش آئے۔

ان جرائم کے ارتکاب کے نتیجے میں یہ بچہ جیل کی سزا کا سامنا کر رہا ہے، لیکن عدالت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کب تک سلاخوں کے پیچھے گذارے گا۔ اسے پانچ مئی کو شریوزبری کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جانے والی ہے۔

ویسٹ مرسیا پولیس نے بتایا کہ کچھ متاثرین نے اپنے حملہ آور کو اسکول یونیفارم پہنا ہوا بتایا۔

پولیس کے ساتھ انٹرویو کے دوران لڑکے نے اعتراف کیا کہ وہ بعض جرائم میں موجود تھا، لیکن اس نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے انکار کیا۔ اس نےدعویٰ کیا کہ وہاں کوئی اور نامعلوم شخص موجود تھا اور ہوسکتا ہے کہ وہ ان حملوں کا ذمہ دار ہو۔

تفتیش کار کرس ہنری نے سماعت کے بعد کہا کہ "میں متاثرین کا عدالت میں ثبوت دینے میں ان کی ہمت پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس کی وجہ سے آج کا فیصلہ سنایا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "خوش قسمتی سے ایسے حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، لیکن خواتین ہر جگہ اس حقیقت سے سکون حاصل کر سکتی ہیں کہ جب وہ ایسا کریں گے تو ہم کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں