ترک حزب اختلاف کی دفتر پر مسلح حملے کی تصدیق، حکومت کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت ترک "ریپبلکن پیپلز پارٹی" کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، استنبول میں واقع ان کے صدر دفتر پر آج صبح حملہ کیا گیا ہے۔

استنبول میں ترک ریپبلکن پیپلز پارٹی کی شاخ کے سربراہ جانان كفتانجی أوغلو نے بتایا کہ "آج صبح پانچ بجے کے لگ بھگ ان کے پارٹی ہیڈکوارٹر کے قریب ایک مسلح حملہ ہوا، جس میں ممکنہ طور استنبول میں ان کی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "عمارت میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر اور پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر 6 یا 7 گولیاں چلائی گئی تھیں،"

ان کا کہنا ہے کہ "عمارت کو لگنے والی گولی نہیں ملی، لیکن چلائی گئی ہے۔" 9 ایم ایم کی دو گولیاں سڑک کے کنارے سے ملی ہیں جو ہماری پارٹی ہیڈکوارٹر کی طرف فائر کی گئیں۔"

"ریپبلکن پیپلز پارٹی" کے رہنما کے مطابق استنبول میں پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر حملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک بیان میں، استنبول کے گورنر کے دفتر نے تصدیق کی کہ فائرنگ "ریپبلکن پیپلز پارٹی" کی شاخ کے ہیڈ کوارٹر کے قریب ہوئی، لیکن اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ اپوزیشن پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ریاستی دفتر نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر انکشاف کیا کہ "نگرانی کے کیمرے کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ ہائی وے پر جانے والی تیز رفتار گاڑی سے کی گئی"۔

تاہم حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کی میڈیا اہلکار اوزغه مومجو نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں "ریپبلکن پیپلز پارٹی اور گڈ پارٹی کو نشانہ بنایا گیا، اس لیے، میری رائے میں، حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔"

حزب اختلاف کی جماعت کے ایک سے زیادہ ذرائع کے مطابق حملے کا وقت بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ حملہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تاریخ سے 38 دن پہلے ہوا ہے اور 2015 کے انتخابات سے قبل بھی کہ اسی طرح کے حملے ہوئے تھے۔

گذشتہ جمعہ کو دائیں بازو کی "دی گڈ" پارٹی کے استنبول میں واقع ہیڈکوارٹر کو بھی دو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ترکیہ میں 14 مئی کو صدارتی اور پارلیمانی انتخاب ہو گا۔ صدارتی دوڑ میں موجودہ صدر ایردوآن کے علاوہ تین اور امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں