لیبیا میں دو پڑوسیوں میں جھگڑا، ایک کے گھر سے اسلحہ کا گودام برآمد

واقعہ سے قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد لوگوں کے ہاتھ آنیوالے ہتھیاروں کا مسئلہ پھر منظر پر آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طرابلس کے مشرق میں لیبیا کے شہر الخمس میں دو پڑوسیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک شہری کے گھر سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد ہوا ہے۔

بڑے پیمانے پر یہ ہتھیار اتفاقاً اس وقت دریافت ہوئے جب سکیورٹی فورسز نے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کی۔ اس تنازعہ میں ایک پڑوسی نے جھگڑنے والے اپنے پڑوسی کے گھر پر حملہ کرنے کے لیے آر پی جی لانچر کا استعمال کیا تھا۔

گھر میں اسلحہ گودام

طرابلس میں اتحادی حکومت سے وابستہ لیبیا کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس واقعہ کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ یہ واقعہ منگل کو پیش آیا۔ اس واقعہ کے نتیجے میں ’’الخمس‘‘ شہر میں ایک گھر سے ہتھیاروں، گولہ بارود اور لانچرز کی بڑی کھیپ کو قبضے میں لے لیا گیا۔

وزارت نے واضح کیا کہ الخمس سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کو ایک شہری کی جانب سے شکایت موصول ہوئی کہ ایک شخص نے اس پر حملہ کیا اور اسے مارنے کی کوشش کی ہے۔ کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے تفتیشی ارکان نے شکایت کنندہ کو فوراً پکڑ لیا اور اسے عوامی استغاثہ کے حوالے کر دیا۔

بتایا گیا کہ ففتھ پارٹل پراسیکیوشن کی جانب سے واقعہ میں مدعا علیہ سے تفتیش کے دوران اسلحہ کی موجودگی کا علم ہوا اور پھر گھر سے اسلحہ کی کھیپ برآمد کرلی گئی۔

ہتھیاروں کا خوفناک پھیلاؤ

لیبیا کے لوگوں کے درمیان ہتھیاروں کا پھیلاؤ خوفناک تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عام شہری اپنے اطراف موجود ایسے ہتھیاروں سے لیس افراد کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ صورتحال سے ملک میں سلامتی اور استحکام کی بحالی کی کوششوں کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن گئی ہے۔

واضح رہے 2011 میں کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عام شہریوں میں ہتھیار بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں۔ ان تمام سالوں کے دوران آنے والی حکومتوں میں سے کوئی بھی حکومت اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ابھی تک پھیلے ہوئے اس اسلحہ کو جمع کیا جا سکا نہ لوگوں کو اسلحہ واپس کرنے پر آمادہ کرنے کا واضح طریقہ کار نافذ کر سکی ہے۔ ریاستی ادارے ریاست کے دائرہ کار سے اسلحہ باہر لے جانے والوں پر سخت جرمانے عائد کرتے ہیں۔

ہتھیاروں کے پھیلاؤ نے ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ ملک یکے بعد دیگرے خوفناک بحرانوں کا شکار ہو رہا ہے۔ اس اسلحہ کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب ہر شہری کے لیے اپنی ذاتی کار میں پستول، کلاشنکوف، رائفل یا دیگر اسلحہ لے جانا معمول بن گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا میں ریاست کے کنٹرول سے باہر بے قابو ہتھیاروں کی تعداد 29 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے ملک افراتفری کا شکار ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ان رپورٹوں میں لیبیا کو دنیا میں بے قابو ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لیبیا میں لگ بھگ 150 اور 200 ہزار ٹن کے ہتھیار موجود ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں