ہمارے خلاف یوکرینی دہشت گرد حملوں میں مغربی انٹیلی جنس ملوث ہے: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بدھ کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی فوج کے وار بلاگر کی ایک دھماکے میں ہلاکت کے تین دن بعد مغربی انٹیلی جنس سروسز کا نام لینے بغیر الزام لگایا کہ یوکرین ان کے ملک میں "دہشت گرد حملوں" میں ملوث ہے۔

صدر پوتین نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ "اس بات پر یقین کرنے کی وجہ ہے کہ تیسرے ممالک اور مغربی انٹیلی جنس سروسز روس کے زیر انتظام علاقوں میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاریوں میں ملوث ہیں"۔

اس اجلاس میں یوکرین کے ان چار خطوں کے رہ نماؤں نے بھی شرکت کی جن کا گشتہ سال روس نے الحاق کیا تھا۔

ملاقات کے دوران روسی صدر نے یوکرینی حکام پر الزام لگایا کہ وہ ان چار خطوں میں "وہاں مقیم شہریوں کے خلاف سنگین جرائم" کا ارتکاب کر چکے ہیں۔

"دہشت گردانہ حملے"

انہوں نے مزید کہا کہ کیف فورسز ان علاقوں پر اپنے حملوں میں "کسی کو نہیں بخشتی۔ ان پر توپ خانے سے گولہ باری تک اور ٹارگٹڈ روسی اہلکاروں اور دیگر عوامی شخصیات کو نشانہ بنانے والے "دہشت گرد حملے" تک کیے جاتے ہیں۔

میکسم فومین سینٹ پیٹرزبرگ کے  ایک کیفے میں ہونے والے دھماکے میں مارا گیا
میکسم فومین سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک کیفے میں ہونے والے دھماکے میں مارا گیا

پوتین نے روسی سکیورٹی فورسز کو حکم دیا کہ وہ ان علاقوں میں "مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں"۔

اتوار کو مشہور وار بلاگر میکسم فومین، جو یوکرین میں روسی حملے کی حمایت کے لیے جانا جاتا تھا، سینٹ پیٹرزبرگ (شمال مغرب) میں ایک کیفے کے اندر دھماکہ خیز ڈیوائس پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔

روسی وار بلاگر کا قتل

پیر کو روس نے یوکرین پر الزام عائد کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی قید حزب اختلاف کے رہ نما الیکسی ناوالنی کے حامیوں نے کی تھی۔

دوسری طرف یوکرین کا کہنا ہے کہ بلاگر کا قتل اس حملے کی حمایت کرنے والے روسی حلقوں اندر پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

بدھ کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا کہ فومین کا قتل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "بات چیت کے موضوعات میں سے ایک" ہو گا، جس کی صدارت روس نے ہفتے کے روز سنبھالی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں