’’ہم نے سیاسی عمل کی تکمیل کا عزم کر رکھا ہے: عبدالفتاح البرھان

سویلین حکومت کے قیام کے معاہدے پر دستخط ملتوی ہو گئے ہیں کیونکہ مذاکرات میں شامل فریقین فوج کی تنظیم نو کے حوالے سے کسی اتفاق رائے پر پہنچنے میں ناکام رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کی خودمختار کونسل کے چیئرمین عبدالفتاح البرھان نے جمعرات کے روز اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ’’کہ وہ مطلوبہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے والے سیاسی عمل کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔‘‘ ان کا یہ بیان آج طے پانے والے سیاسی معاہدے کے مؤخر ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سوڈان کی سیاست میں 6 اپریل کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے عبدالفتاح البرھان نے ایک بیان میں کہا ہے ’’کہ ہم مطلوبہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے والے سیاسی عمل کو مکمل کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں، ہم بغاوت کے تمام دروازے بند کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

6 اپریل سوڈان میں دو اہم واقعات کی علامت ہے۔ اسی روز سن 1985 اور 2019 میں دو بغاوتیں ہوئی تھیں جن میں بالترتیب دو صدور جعفر نمیری اور عمرالبشیر کو معزول کر دیا گیا تھا۔ 6 اپریل سوڈان میں دو اہم واقعات کی علامت ہے۔ اسی روز سن 1985 اور 2019 میں دو بغاوتیں ہوئی تھیں جن میں بالترتیب دو صدور جعفر نمیری اور عمرالبشیر کو معزول کر دیا گیا تھا۔

عبدالفتاح البرھان نے بتایا ’’کہ سیاسی اتفاق رائے کو مؤخر کرنے کی وجہ ایک ٹھوس فریم ورک تشکیل دینا ہے جس میں انقلاب کی طاقت اور رفتار کو برقرار رکھا جا سکے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا ’’تمام پارٹیاں باقی رہ جانے والے موضوعات پر تبادلہ خیال کو سنجیدگی سے پورا کرنے میں مصروف ہیں۔‘‘

فورسز آف فریڈم اینڈ چینج اتحاد کے سرکاری ترجمان ياسر سعيد عرمان کا کہنا ہے ’’کہ فوجی تنظیم نو پر پیش رفت تو ہوئی ہے تاہم نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو فوج میں ضم کرنے کے معاملے پر اختلافات ہیں۔‘‘

مبینہ طورپر یہ اختلافات آر ایس ایف کے رہنما محمد حمدان داگلو اور2021 کی بغاوت کی قیادت کرنے والے فوجی حکمراں جنرل عبدالفتاح البرہان کے درمیان ہیں۔

آر ایس ایف جنجاوید ملیشیا سے ابھری ہے، جسے اکیسویں صدی کے اوائل میں مغربی دارفور خطے میں بشیر نے اپنی کارروائیوں کے ذریعہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس ملیشیا پر دارفور کے غیر عرب باغیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

تاہم عمر البشیر کی سن 2019 میں اقتدار سے برطرفی کی وجہ سے آر ایس ایف کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اس کے رہنما داگلو کو بشیر کے بعد سوڈان کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

یاد رہے اکتوبر 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد ملک میں انتخابات کرانے کے حوالے سے ابتدائی بات چیت گذشتہ برس کے اواخر میں ہوئی تھی۔ اس کا مقصد کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا تھا جس سے ملک کو دوبارہ سویلین ٹریک پر لایا جا سکے۔

بغاوت کے بعد ملک میں احتجاجی مظاہروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ دہائیوں سے جاری پابندیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت جو پہلے ہی ابتر تھی، بغاوت، کرونا وائرس کی وبا اور یوکرین میں جاری جنگ کے بعد مزید ابتر ہو گئی ہے۔

اس معاہدے پر یکم اپریل کو دستخط ہونا تھے۔ بعد میں اس کی تاریخ جمعرات تک موخر کردی گئی تھی۔ لیکن اب سوڈانی حکام نے اسے ایک بار پھر ملتوی کردیا اور دستخط کے لیے کسی نئی تاریخ کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

دوسری طرف ایک طاقتور سویلین گروپ، فورسز آف فریڈم اینڈ چینج کولیشن نے جمعرات 6 اپریل کو احتجاجی مظاہرے کی اپیل کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں