افغان خواتین کے زیر انتظام ریڈیو سٹیشن 'صدائے بانواں' کی نشریات بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں خواتین کے زیرانتظام ریڈیو سٹیشن "صدائے بانواں" [خواتین کی آواز] کی ایک ہفتے کی بندش کے بعد نشریات کو بحال کر دیا گیا ہے۔ افغان حکام نے ماہ رمضان میں میوزک چلانے پر ریڈیو کی نشریات کو ایک ہفتے کے لئے بند کر دیا تھا۔

صدائے بانوواں، جس کا دری زبان میں مطلب خواتین کی آواز ہے، افغانستان میں خواتین کے زیر انتظام واحد ریڈیو اسٹیشن ہے۔ اس کا آغاز 10 سال پہلے ہوا تھا۔ اس میں آٹھ ملازمین کام کرتے ہیں اور ان میں چھے خواتین ہیں۔

صوبہ بدخشاں کے ڈائریکٹر برائے اطلاعات و ثقافت معزالدین احمدی نے کہا کہ اسٹیشن نے 'امارت اسلامی کے قوانین' کی پیروی کی یقین دہانی کروائی ہے جس کے بعد جمعرات کو اس کی نشریات بحال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سٹیشن کی انچارج ناجیہ سروش کے مطابق سٹیشن نے حکام کو یقین دہانی کروائی جس کے بعد ریڈیو کی نشریات کو بحال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل میں اقتدار پر قبضے کے بعد بہت سے صحافیوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ افغان آزاد جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے مطابق فنڈز کی کمی یا عملہ کے ملک چھوڑنے کی وجہ سے بہت سے میڈیا ادارے بند ہو گئے ہیں۔

طالبان نے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے خواتین کو یونیورسٹی سمیت چھٹی جماعت کے بعد تعلیم اور زیادہ ترملازمتوں سے روک دیا ہے۔ البتہ موسیقی پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں اپنی سابقہ حکمرانی کے دوران، طالبان نے ملک میں زیادہ تر ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات پر پابندی عاید کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں