آذربائیجان اورایران کے وزراء خارجہ کا حالیہ کشیدگی کے بعد’غلط فہمیوں‘پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آذربائیجان اورایران کے وزراء خارجہ نے دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہفتے کے روز فون پرصورت حال کے ازالے کے لیے بات چیت کی ہے۔آذربائیجان نے جمعرات کو چارایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قراردے کرملک بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔

آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ جیہون بیراموف اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اورانھوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ عدمِ اطمینان اورغلط فہمیوں کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

وزارت نے کہاکہ بیراموف نےاس بات کی نشان دہی کی کہ آذربائیجان کی آزادخارجہ پالیسی کااحترام کرنا اس کے قومی مفادات اورخطے کے ممالک کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات پرمبنی ہے۔ممکنہ طورپر آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیا تھاجس نے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کوکشیدہ کردیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے خبردی ہے کہ اعلیٰ سفارت کاروں نے جمعہ کی شام اورہفتہ کی سہ پہر دومرتبہ فون پرگفتگو کی ہے اور’’موجودہ مسائل اور غلط فہمیوں‘‘کوحل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حسین امیرعبداللہیان نے بیراموف کےساتھ اپنی بات چیت میں خطے کے ممالک کے اتحاد، سلامتی اورترقی کے خلاف اسرائیلی سازش کا حوالہ دیا۔

جمعرات کے روزآذربائیجان نے باکومیں ایرانی سفارت خانہ کے چارملازمین کو ناپسندیدہ شخصیات قراردیا تھا اور ایران کی جانب سے 'حالیہ اشتعال انگیز اقدامات' پر 'شدید عدم اطمینان' کا اظہارکیا تھا۔آذربائیجان نے چار ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔

اسی روزآذری حکام نے چھے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ان کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ ان کا تعلق ایران کے خفیہ اداروں سے ہے اور وہ باکو اور تہران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں آذربائیجان میں بغاوت کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ ہیں اور آذربائیجان ایران کے تاریخی حریف ترکیہ کا قریبی اتحادی ہے۔آذربائیجان میں یہ گرفتاریاں دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کشیدگی کے دوران میں عمل میں آئی ہیں۔

باکوحکام نے الزام عاید کیا تھاکہ آذربائیجان کے چھے شہریوں کوایرانی خفیہ اداروں نے ملک میں صورت حال کو غیرمستحکم کرنےکے لیے بھرتی کیا تھا۔وزارت داخلہ، اسٹیٹ سکیورٹی سروس اور پراسیکیوٹرجنرل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں ان گرفتاریوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق انھوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے منافع سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کرتے ہوئے’’بنیاد پرست اسلام‘‘کو فروغ دیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوری میں آذربائیجان نے تہران میں اپنے سفارت خانے کا آپریشن معطل کردیا تھا۔اس سے چند روزپہلے ایک مسلح شخص نے سفارت خانے پر حملہ کیا تھا اور اس کی فائرنگ سے ایک محافظ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے۔باکو نے دعویٰ کیا تھاکہ اس حملے میں ایران کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ کارفرما تھا۔تیل کی دولت سے مالامال اس ملک نے گذشتہ سال ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اپنے پانچ شہریوں کو گرفتارکیا تھا۔ان کے علاوہ اس نے 'ایران کی جانب سے قائم کردہ غیرقانونی مسلح گروہ' سے تعلق رکھنے والے سترہ افراد کو بھی گرفتارکیا تھا۔

آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان گذشتہ کئی دہائیوں سے نگورنوقراباخ پرجاری تنازع میں ایران آرمینیا کی حمایت کررہاہے۔آذربائیجان اس وجہ سے بھی ایران سے نالاں ہے اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔

ایران میں ترک بولنے والے نسلی آذری لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ایران طویل عرصے سے آذربائیجان پریہ الزام عاید کرتا آرہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں علاحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔تہران کو یہ بھی خدشہ ہے کہ آذربائیجان کی سرزمین کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ حملے میں استعمال کیاجاسکتا ہے جبکہ آذربائیجان اسرائیل سے اسلحہ کا بھی بڑا خریدارملک ہے۔دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بحیرہ کیسپین کے نزدیک مشترکہ سرحد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں