امریکا میں ایرانی حکومت کی ناقد صحافی کے اغوا کی سازش میں فنڈ دینے والی خاتون قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی حکومت کی ناقد سماجی کارکن مسیح علی نژاد جن کے بارے میں امریکی حکام نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے اغوا یا قتل کی دو ناکام سازشوں کا ہدف تھیں، نے جمعہ کے روز نیویارک میں ایک وفاقی جج سے درخواست کی کہ وہ ان کے خلاف حملوں کے مالی تعاون میں ملوث خاتون کو سخت قید کی سزا سنائے جس نے مبینہ طور پر لاعلمی میں ایک حملے کے لیے فنڈ فراہم کیا۔

مسیح علی نژاد جو ایک وقت میں ایرانی صحافی تھیں نے کہا کہ جب سے حکام نے انہیں 2020 میں مطلع کیا تھا کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے اور یہ کہ ان کی 10 سال پرانی بروکلین رہائش گاہ کی تصاویر لی گئی ہیں، تب سے ان کا احساس تحفظ ختم ہو گیا ہے۔

اس انکشاف کے بعد سے انہیں امریکی حکومت کی جانب سے تحفظ حاصل ہے اور وہ اکثر محفوظ گھروں کے درمیان منتقل ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے جج سے کہا کہ وہ 48 سالہ نیلوفر بہادریفر کو جیل بھیج کر ایک مثال قائم کرے۔ جج نے پراسیکیوٹرز سے اتفاق کے بعد خاتون کے لیے چار سال قید کی سزا کا اعلان کیا۔

اس کے بعد، بہادریفر نے عدالت میں مسیح علی نژاد کو بتایا کہ وہ انہیں "نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش میں ملوث ہونے پر شرمندہ ہوئی ہیں، اگرچہ میں اس سے لاعلم تھی۔" انہوں نے مزید کہا: "آپ تمام ایرانیوں کے لیے ایک ہیرو ہیں۔ میں معذرت خواہ ہوں."

تاہم عدالت کے باہر، علی نژاد اس سے متاثر نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ "وہ خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں؟ میں ہیرو نہیں ہوں،" "میرے ہیرو وہ لوگ ہیں جو ایرانی حکومت کے ہاتھوں مارے گئے، اور انہوں نے کبھی بھی اس طرح کا شکار نہیں کیا جیسا کہ اس نے کیا تھا۔"

2009 کے صدارتی انتخابات اور کریک ڈاؤن کے بعد ملک سے فرار ہونے کے بعد علی نژاد طویل عرصے سے ایران کا نشانہ بنی رہی ہیں۔

وہ بیرون ملک فارسی زبان کے سیٹلائٹ چینلز کی ایک نمایاں شخصیت ہیں جو ایران کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں اور 2015 سے امریکی فنڈ سے چلنے والے وائس آف امریکہ کے فارسی زبان کے نیٹ ورک کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اکتوبر 2019 میں انہوں نے امریکی شہریت لے لی۔

دسمبر میں، بہادریفر، جو ایرانی نژاد امریکی شہری ہے، نے چار ایرانیوں کے لیے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کے ذریعے ایران پر امریکی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کی سازش کا جرم قبول کیا۔ یہ چاروں ایرانی مسیح علی نژاد کو اغوا کرکے اسے واپس تہران لے جا کر خاموش کرنا چاہتے تھے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے بہادریفر کو ایک امریکی نجی تفتیش کار کو ادائیگی کے لیے استعمال کیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ تفتیش کار ممکنہ اغوا کاروں کے ایک منصوبے کا حصہ تھا، جو حکومت ایران کے لیے کام کر رہا تھا۔

گذشتہ موسم گرما میں، پولیس نے ان کے گھر کے قریب سے ایک شخص کو گرفتار کیا جو ایک بھاری بھرکم رائفل اور گولہ بارود کے درجنوں راؤنڈز سے لیس تھا۔

پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ 2015 سے بہادریفر نے ایران کے مختلف افراد کو امریکی مالیاتی نظام اور اداروں تک رسائی سمیت مالی اور دیگر خدمات فراہم کی تھیں۔

اپنی دسمبر کی درخواست میں، بہادریفر نے کہا کہ اس نے ایران میں ایک سرکاری اہلکار کی جانب سے نجی تفتیش کار کو فنڈز بھیجے تھے جو ایک دیرینہ خاندانی دوست تھا۔

2021 میں بھی نیویارک میں ایک ایرانی انٹیلی جنس افسر اور دیگر پر مسیح علی نژاد کو اغوا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں