ایران:بے حجاب خواتین کی شناخت کے لیے عوامی مقامات پرکیمرے نصب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں حکام لازمی ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیےعوامی مقامات اور شاہراہوں پر کیمرے نصب کررہے ہیں تاکہ بے حجاب خواتین کی شناخت کی جا سکے اورانھیں سزا دی جا سکے۔

ایرانی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ حجاب کی خلاف ورزی کی مرتکبہ خواتین کوان کی شناخت کے بعد ’’نتائج کے بارے میں انتباہی ٹیکسٹ پیغامات‘‘موصول ہوں گے۔

عدلیہ کی میزان نیوزایجنسی اوردیگرسرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد 'حجاب کے قانون کے خلاف مزاحمت کو روکنا' ہے اور اس طرح کی مزاحمت ملک کے روحانی تشخص کو خراب کرتی ہے اور عدم تحفظ پھیلاتی ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں اخلاقی پولیس کی تحویل میں 22 سالہ کردخاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں خواتین کی بڑی تعداد نقاب اتار رہی اور اس سے دستبردار ہو رہی ہے۔مہسا امینی کو حجاب کے اصول کی مبیّنہ خلاف ورزی کرنے پرحراست میں لیا گیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے پرتشدد انداز میں اس بغاوت کو کچل دیا تھا۔

اس کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد لازمی ضابطہ لباس کی خلاف ورزی پر گرفتاری کا خطرہ مول لے رہی ہیں اورملک بھر کے خریداری مالوں، ریستورانوں، دکانوں اورگلیوں میں خواتین کوبے حجاب دیکھا جاتا ہے۔ پولیس کے خلاف مزاحمت کرنے والی خواتین کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔

ہفتے کے روز جاری ہونے والے پولیس کے بیان میں کاروباری اداروں کے مالکان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’’اپنے محتاط معائنے کے ساتھ معاشرتی اصولوں کی پاسداری پرسنجیدگی سے نظر رکھیں‘‘۔

ایران میں 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کے بعد نافذ شدہ شرعی قانون کے تحت، خواتین کو اپنے بالوں کو ڈھانپنے اور اپنی شخصیت کو چھپانے کے لیے لمبے اور ڈھیلے کپڑے پہننے کی پابند کیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والی خواتین کوعوامی سرزنش،جرمانے یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کی جانب سے 30 مارچ کو جاری کردہ ایک بیان میں نقاب کو’’ایرانی قوم کی تہذیبی بنیادوں اوراسلامی جمہوریہ کے عملی اصولوں میں سے ایک قراردیا گیا تھاکہ اس معاملے پر کوئی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس نے شہریوں پرزوردیا کہ وہ بے نقاب خواتین کا مقابلہ کریں۔ گذشتہ دہائیوں میں اس طرح کی ہدایات نے سخت گیروں کو خواتین پر حملے کرنے کی ترغیب دی ہے۔گذشتہ ہفتے ایسے ہی ایک واقعہ کی ویڈیووائرل ہوئی تھی۔اس ایک شخص کوایک دکان میں دو خواتین پر دہی پھینکتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور اس کی دکان دار اور دوسرے افراد کے ساتھ توتکار بھی ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں