سلیمانیہ ایئرپورٹ پر بمباری، عراق کا ترکیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی ایوان صدر نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ ہونے والے حملوںکی ذمہ داری قبول کرے اور ان کارروائیوں کے لیے باضابطہ معافی مانگے۔ ان حملوں کو فوری روکے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کی راہ کھول کر اپنے اندرونی مسائل حل کرے۔

عراق نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے حملوں سے بچنے کے لیے ان حملوں کے دوبارہ ہونے کی صورت میں سخت موقف اختیار کیا جائے گا۔

عراق کے کردستان ریجن کی صدارت نے بھی حملے کی مذمت کردی اور ایک بیان میں کہا ہے کہ کردستان کے علاقے کے خلاف ترکیہ کی فوجی کارروائیاں دہرائی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین حملہ سلیمانیہ ایئرپورٹ پر بمباری ہے۔ یہ بمباری ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں ہم ترک حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بمباری کی ذمہ داری قبول کرے اور ان کارروائیوں کے لیے سرکاری طور پر معافی مانگے۔ ان حملوں کو فوری روکے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کرکے اندرونی مسائل کو حل کرے۔

22
22

ایک نجی ذریعہ نے تصدیق کی ہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر پر ایک انتباہی ترک حملہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا مقصد عبدی سے جان چھڑانا نہیں تھا۔ عبدی حملے کے وقت ہیلی کاپٹر میں موجود تھے۔

ایک کرد خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عبدی نے سلیمانیہ میں انسداد دہشت گردی کے ہیڈ کوارٹر میں امریکیوں اور کردستان کی پیٹریاٹک یونین کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد وہ ایئرپورٹ گئے اور اسی وقت ایک ڈرون نے ان کے ٹھکانے کے قریب ایک مقام کو نشانہ بنا ڈالا۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کے نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں