شام میں داعش کے کیمپوں سے 4 خواتین اور 10 بچے کینیڈا پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چار کینیڈین خواتین اور 10 بچے جنہیں شمال مشرقی شام میں داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے کیمپوں میں رکھا گیا تھا، کینیڈا پہنچ گئے ہیں۔ پولیس اور عدالتی ذرائع کے مطابق جمعے کو کینیڈا کی حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے چوتھے آپریشن میں میں شام سے مزید 14 افراد کی آمد کی تصدیق کی ہے۔

جمعے کو پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان میں سے 3 کو "دہشت گردی کے میدان میں عوامی سلامتی کو نقصان نہ پہنچانے کے عہد" کے حوالے سے عدلیہ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے ایک 38 سالہ کو ایک خاتون کو مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔

ان کے وکیل لارنس گرنسپون نے کہا کہ یہ کوئی مجرمانہ الزام نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ شخص ایک سال تک شرائط پر عمل کرے۔

پولیس نے کہا کہ دیگر دو خواتین عمارہ امجد اور دور احمد منگل کو ہونے والی اگلی سماعت تک حراست میں رہیں گی۔

چوتھی خاتون کےحوالے سے چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔ چار خواتین کی نمائندگی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل گرنسپون نے کہا انہیں فوجداری الزامات یا دہشت گردی کے بانڈ آرڈر کا سامنا نہیں ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ "10 بچوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ یہاں کینیڈا میں واپس کر دیا گیا تھا۔"

جمعرات کو کینیڈا کی وزارت خارجہ نے "کیمپوں میں بگڑتے حالات" کی وجہ سے کینیڈین بچوں کی "صحت اور حفاظت" کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

گذشتہ اکتوبر میں کینیڈا نے شام میں قید دو خواتین اور دو بچوں کو واپس کیا۔ اور 2020 میں کینیڈا نے 5 سالہ یتیم بچی کی واپسی کی اجازت دی، جب اس کے چچا نے کینیڈین حکومت کے خلاف اس کےحوالے سے مقدمہ دائر کیا۔

سنہ 2019ء میں ’داعش‘ کی شکست کے بعد سے تنظیم کی صفوں میں جنگجوؤں کی بیویوں اور بچوں کی واپسی کا معاملہ بہت سے ممالک کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ بن گیا ہے، جس میں ان کے دوبارہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں